LIVE
Loading Breaking News...

پنیومونک طاعون کیا ہے اور یہ کیسے پھیلتا ہے؟ تفصیلی جائزہ

News Image
روسی لیبارٹری میں طاعون پر تحقیق کرنے والے ایک کارکن کی موت کے بعد پنیومونک طاعون کے حوالے سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرین نے اس بیماری کے پھیلاؤ اور اس کی خطرناک نوعیت کے بارے میں اہم تفصیلات فراہم کی ہیں۔
طاعون پر تحقیق کرنے والی ایک روسی لیبارٹری میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد جہاں ایک کارکن کی موت واقع ہو گئی ہے، طبی حلقوں میں ایک بار پھر پنیومونک طاعون کے حوالے سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس جان لیوا بیماری کے بارے میں دنیا بھر میں سوالات کیے جا رہے ہیں کہ یہ کس طرح پھیلتی ہے اور اس کی شدت کتنی خطرناک ہو سکتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق، پنیومونک طاعون طاعون کی سب سے خطرناک اور تیزی سے پھیلنے والی قسم ہے جو کہ بیکٹیریا یرسینیا پیسٹس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ بیماری بنیادی طور پر سانس کے ذریعے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہو سکتی ہے جو اسے دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ تشویشناک بناتی ہے۔ طاعون کی دیگر اقسام کے برعکس جو عموماً پسووں کے کاٹنے سے پھیلتی ہیں، پنیومونک طاعون متاثرہ شخص کی کھانسی یا چھینک سے نکلنے والے قطروں کے ذریعے ہوا میں شامل ہو جاتی ہے۔ جب کوئی صحت مند شخص ان آلودہ قطروں کو سانس کے ذریعے اندر لے جاتا ہے تو وہ بھی اس انفیکشن کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس کی علامات میں تیز بخار، سر درد، کمزوری اور خون آلود بلغم کے ساتھ کھانسی شامل ہیں جو چند ہی دنوں میں شدید نیومونیا کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ اگر اس بیماری کا علاج بروقت اینٹی بائیوٹکس کے ذریعے شروع نہ کیا جائے تو یہ چند گھنٹوں کے اندر مہلک ثابت ہو سکتی ہے اور مریض کی جان لے سکتی ہے۔ روسی لیبارٹری کے اس واقعے نے ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کرائی ہے کہ خطرناک پیتھوجینز پر تحقیق کے دوران حفاظتی پروٹوکولز کی سختی سے پابندی کتنی ضروری ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور دیگر طبی ادارے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایسے مہلک بیکٹیریا اور وائرسز پر کام کرنے والی لیبارٹریوں میں بائیو سیفٹی کے اعلیٰ ترین معیارات کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی قسم کے حادثے یا وبائی مرض کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ عام شہریوں کے لیے ماہرین کا یہی مشورہ ہے کہ وہ اس حوالے سے افواہوں پر دھیان نہ دیں لیکن طاعون جیسی بیماریوں کے بارے میں بنیادی طبی معلومات اور علامات سے آگاہی ضرور رکھیں تاکہ بروقت طبی امداد حاصل کی جا سکے۔