LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ کا نیا فضائی دفاعی منصوبہ اور سکیورٹی خدشات

News Image
برطانوی سیاست میں موجودہ دور کے سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے فضائی دفاع کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ کنزرویٹو پارٹی اور حکومت دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ بڑھتے ہوئے عالمی خطرات کے پیش نظر برطانوی فضائی حدود کے دفاع کو بہتر بنانا ناگزیر ہے۔
برطانیہ میں بڑھتے ہوئے عالمی خطرات اور سکیورٹی کے پیش نظر فضائی حدود کے دفاع کو مزید موثر بنانے کے لیے ایک نئے اور جامع منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے۔ کنزرویٹو پارٹی کی رہنما کے پیش کردہ دس ارب پاؤنڈ کے اس فضائی دفاعی منصوبے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی فضائی حدود کی حفاظت کو لے کر حکومتی اور سیاسی حلقوں میں تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دنیا بھر میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور نئے دفاعی چیلنجز کے تناظر میں یہ اقدام انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ حکومت اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی کنزرویٹو پارٹی کے درمیان اس بات پر وسیع تر اتفاق پایا جاتا ہے کہ موجودہ غیر یقینی اور خطرناک عالمی ماحول میں روایتی دفاعی نظام ناکافی ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ فضائی دفاعی صلاحیتوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ فضائی خطرے سے بروقت اور موثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔ اس مجوزہ دس ارب پاؤنڈ کے منصوبے کے تحت برطانوی فضائی حدود کی نگرانی کے نظام کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کرنے، ریڈار سسٹمز کو اپ گریڈ کرنے اور ممکنہ میزائل حملوں یا فضائی دراندازی کو ناکام بنانے کے لیے جدید دفاعی میزائل شیلڈز نصب کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ ملک کی سرحدوں اور اہم تنصیبات کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور دفاعی بجٹ کو اسٹریٹجک خطرات کے تناظر میں ترجیح دی جائے گی۔ آنے والے دنوں میں اس منصوبے کے حوالے سے مزید پالیسی بیانات اور پارلیمنٹ میں گرما گرم بحث کی توقع کی جا رہی ہے جہاں دفاعی ماہرین اور سیاستدان اس بات کا احاطہ کریں گے کہ برطانوی عوام کے تحفظ کو کس طرح یقینی بنایا جائے۔ اس پیش رفت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ برطانیہ اپنے دفاعی ڈھانچے کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔