World
طالب علم کا 'ڈیکسٹر' طرز کے قتل روم میں خاتون کے قتل کا اعتراف
برطانیہ میں فرانزک سائنس کے بیس سالہ طالب علم نے ایک خاتون کو اے بی اینڈ بی میں قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔ ملزم نے اس لرزہ خیز واردات کے لیے مشہور امریکی ٹی وی شو ڈیکسٹر کے انداز میں ایک قتل گاہ تیار کی تھی۔
برطانیہ میں ایک انتہائی حیرت انگیز اور خوفناک مقدمے کی سماعت کے دوران فرانزک سائنس کے بیس سالہ طالب علم بینجمن ولیم ڈے نے ایک خاتون کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔ ملزم نے اس گھناؤنے جرم کے لیے مشہور امریکی ٹی وی شو 'ڈیکسٹر' سے متاثر ہو کر تمام منصوبہ بندی کی تھی اور واردات کے لیے ایک خصوصی قتل گاہ بھی تیار کی تھی۔ یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب پولیس نے تفتیش کا آغاز کیا۔
ابتدائی پولیس رپورٹس اور عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق ملزم بینجمن ولیم ڈے نے مقتولہ ماریہ ساسیانو کو ایک کرائے کے مکان یعنی اےئر بی اینڈ بی میں بڑی چالاکی سے پھنسایا تھا۔ ملزم نے فرانزک سائنس کی اپنی تعلیم اور مہارت کا استعمال کرتے ہوئے واردات کی جگہ کو اس طرح سجایا تھا کہ وہاں سے خون کے نشانات یا دیگر شواہد کو آسانی سے مٹایا جا سکے، بالکل اسی طرح جیسے ٹی وی شو 'ڈیکسٹر' میں دکھایا جاتا ہے۔
عدالت میں استغاثہ نے بتایا کہ ملزم نے اس واردات کو انجام دینے کے لیے کافی طویل عرصے سے منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو حراست میں لیا اور جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کیے۔ اس ہلاکت خیز واقعے نے نہ صرف مقامی کمیونٹی کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ تعلیمی اداروں اور سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ نوجوان کس طرح پرتشدد میڈیا سے متاثر ہو رہے ہیں۔
اب اس مقدمے کی مزید سماعت عدالت میں جاری ہے جہاں متوقع طور پر ملزم کو سخت ترین سزا سنائے جانے کا امکان ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے جرائم معاشرے کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں اور ایسے مجرموں کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔