LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ کا اسرائیل کو بیت المقدس میں قونصل خانہ بند کرنے سے روکنے کا فیصلہ

News Image
برطانیہ اسرائیلی بستیوں پر پابندیوں کے ردعمل میں مشرقی بیت المقدس میں اپنا قونصل خانہ بند کرنے کی اسرائیلی دھمکی کو روکنے کے لیے آخری کوشش کرے گا۔ یہ قونصل خانہ شہر میں فلسطینیوں کے ساتھ برطانوی تعلقات کا نگران ہے۔
برطانیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مشرقی بیت المقدس میں اپنے قونصل خانہ کو بند ہونے سے بچانے کے لیے آخری کوشش کرے گا۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے اس قونصل خانہ کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے جو کہ شہر میں فلسطینیوں کے ساتھ برطانوی تعلقات کو سنبھالنے کا بنیادی مرکز ہے۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے یہ اقدام ان برطانوی پابندیوں کے بعد سامنے آیا ہے جو حال ہی میں اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں بنائی جانے والی غیر قانونی بستیوں اور آباد کاروں پر عائد کی گئی تھیں۔ برطانوی حکومت اس قونصل خانہ کی بندش کو کسی صورت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کیونکہ یہ فلسطینی علاقوں کے ساتھ سفارتی رابطہ کاری کا ایک انتہائی اہم ذریعہ ہے۔ لندن میں وزارتِ خارجہ کے حکام اس تنازع کو حل کرنے کے لیے تمام ممکنہ سفارتی راستے تلاش کر رہے ہیں۔ برطانوی سفارت کار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ قونصل خانہ کی حیثیت کو برقرار رکھا جائے اور دونوں فریقین کے درمیان تناؤ کو کم کیا جائے۔ اگرچہ اسرائیل کی جانب سے اس قونصل خانہ کو بند کرنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے، تاہم برطانوی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو جاری رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی۔ اس معاملے پر آنے والے دنوں میں مزید اعلیٰ سطح کے رابطے متوقع ہیں تاکہ قونصل خانہ کو کسی بھی ممکنہ بندش سے بچایا جا سکے اور خطے میں پیدا ہونے والے اس نئے سفارتی بحران کو حل کیا جا سکے۔