World
بیرزیت یونیورسٹی یادگار مسماری، فلسطینی یادداشت پر حملہ
اسرائیلی فوجیوں نے بیرزیت یونیورسٹی میں شہید طلباء کی یادگار کو منہدم کر کے وہاں انجیر کا پودا لگا دیا۔ اس کارروائی کا مقصد فلسطینی تاریخ اور یادداشت کو کچلنا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع مشہور تعلیمی ادارے بیرزیت یونیورسٹی میں اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے ایک یادگار کو مسمار کرنے کا واقعہ پیش آیا ہے، جو شہید ہونے والے طلباء اور فارغ التحصیل نوجوانوں کی یاد میں تعمیر کی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق قابض فوجیوں نے اس یادگار کو مکمل طور پر گرا دیا اور اس کی جگہ علامتی طور پر ایک انجیر کا پودا لگا دیا۔ ماہرین اور تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا واضح مقصد فلسطینی نوجوانوں کی یادداشت کو کچلنا اور ان کے تعلیمی اداروں میں جاری مزاحمتی اور یادگاری ثقافت کو ختم کرنا ہے۔
فلسطینی حلقوں نے اس عمل کو تعلیمی آزادی پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل تعلیمی اداروں کو بھی اپنے سیاسی اور عسکری عزائم کا نشانہ بنا رہا ہے۔ بیرزیت یونیورسٹی ہمیشہ سے فلسطینی تحریکِ آزادی اور فکری بیداری کا ایک اہم مرکز رہی ہے، جہاں کے طلباء نے تاریخ کے ہر موڑ پر اہم کردار ادا کیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ اور طلباء یونین کی طرف سے جاری کردہ بیانات میں اس تخریب کاری کی شدید مذمت کی گئی ہے اور عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ شہداء کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔
اسرائیلی فوج کی اس کارروائی سے نہ صرف یونیورسٹی کے طلباء میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ یادگاروں کو مٹانے سے حقائق کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ پودا لگانے کے اس علامتی عمل کو فلسطینی عوام نے اپنی شناخت پر حملہ قرار دیا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ علاقوں میں تعلیمی اداروں کے احترام اور فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے۔