LIVE
Loading Breaking News...

روس میں لیبارٹری کارکن کی طاعون سے ہلاکت اور قرنطینہ کی اطلاعات کی تردید

News Image
روسی حکام نے سائبیریا میں ایک انسدادِ طاعون انسٹی ٹیوٹ کے کارکن کی موت کے بعد ملک میں نئے اقدامات نافذ کرنے کی سختی سے تردید کی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واقعے کے بعد متعدد افراد کو قرنطینہ میں بھیجا گیا ہے جبکہ امریکی حکام نے بھی واقعے کی تفصیلات طلب کی ہیں۔
ماسکو: روسی حکام نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ سائبیریا کے ایک تحقیقاتی ادارے میں لیبارٹری کارکن کی ہلاکت کے بعد ملک میں انسدادِ طاعون کے ہنگامی اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب سائبیریا کے ایک معروف اینٹی پلگ انسٹی ٹیوٹ کا عملہ اس وقت شدید تشویش کی زد میں آ گیا جب ایک ملازم پراسرار طور پر ہلاک ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد خطے میں ادویات اور حفاظتی اقدامات سے متعلق مختلف قسم کی چہ مگوئیاں شروع ہو گئی تھیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس افسوسناک واقعے کے بعد درجنوں افراد کو قرنطینہ میں منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ طاعون کی ممکنہ وباء کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ اس خبر کے وائرل ہونے کے بعد عالمی سطح پر طبی حلقوں میں ہلچل مچ گئی، اور امریکہ سمیت کئی ممالک کے حکام نے ماسکو سے اس واقعے کی شفاف تفصیلات اور اصل صورتحال کے بارے میں معلومات مانگی ہیں۔ تاہم، روسی حکام نے تمام افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور کسی بھی قسم کے سخت یا ہنگامی انسداد طاعون کے اقدامات نافذ نہیں کیے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ لیبارٹری کے ملازم کی موت کے اسباب کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، لیکن اس واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ غیر ضروری خوف و ہراس پھیلایا جا سکے۔ طبی ماہرین کے مطابق طاعون ایک ایسا مرض ہے جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے، خاص طور پر نیومونک طاعون جو کہ ہوا کے ذریعے پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی دنیا کے کسی بھی حصے میں اس قسم کی بیماری کا ذکر آتا ہے تو بین الاقوامی ادارے فوری طور پر الرٹ ہو جاتے ہیں۔ روسی حکومت کی جانب سے تردید کے باوجود، عالمی صحت کے ادارے اور دیگر ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔