World
فرانس میں طلباء کا احتجاج، پیرس اور مارسیلے میں شیلنگ
فرانس بھر میں اسکولوں کے خراب حالات اور تعلیمی نظام میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات کے خلاف طلباء اور اساتذہ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ پیرس اور مارسیلے میں مظاہروں کے دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
فرانس بھر میں تعلیمی نظام کی خستہ حالی اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات کے خلاف طلباء، اساتذہ اور والدین کا احتجاجی سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ دارالحکومت پیرس اور بندرگاہی شہر مارسیلے سمیت ملک کے مختلف حصوں میں بڑے پیمانے پر ریلیاں نکالی گئیں، جن کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے واقعات بھی سامنے آئے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ اس دوران کئی مقامات پر اسکولوں میں کلاسیں معطل کرنا پڑیں تاکہ ممکنہ کشیدگی سے بچا جا سکے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ فرانسیسی تعلیمی اداروں کا انفراسٹرکچر انتہائی ابتر شکل میں ہے، اور عمارتیں زبوں حالی کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے تعلیمی بجٹ میں ناکافی فنڈنگ کی وجہ سے طلباء کو بنیادی سہولیات سے محروم ہونا پڑ رہا ہے، جس سے غریب اور امیر طبقے کے درمیان تعلیمی فرق مزید بڑھ رہا ہے۔ اساتذہ اور والدین نے بھی طلباء کے مطالبات کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر اسکولوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور اسکولوں کی مرمت اور بہتری کے لیے نئے منصوبوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم، طلباء تنظیموں نے اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ اس ملک گیر تحریک نے موجودہ حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج کھڑا کر دیا ہے، کیونکہ سڑکوں پر بڑھتا ہوا احتجاج اور تعلیمی اداروں کی بندش سے نظامِ زندگی شدید متاثر ہو رہا ہے۔