World
برطانیہ میں جعلی ہم جنس پرست بن کر پناہ لینے والے گروہ کے تین کارندے گرفتار
برطانوی ہوم آفس کے امیگریشن انفورسمنٹ افسران نے چھاپہ مار کر ایک ایسے گروہ کے تین کارندوں کو گرفتار کر لیا ہے جو تارکینِ وطن کو پناہ کے حصول کے لیے خود کو ہم جنس پرست ظاہر کرنے کا جھوٹا مواد فراہم کرتا تھا۔ یہ گروہ ہر تارکِ وطن سے جعلی شواہد تیار کرنے کے عوض ساڑھے چار ہزار برطانوی پاؤنڈ تک وصول کرتا تھا۔
برطانوی ہوم آفس کے امیگریشن انفورسمنٹ کے شعبے نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایسے مجرمانہ گروہ کا پردہ فاش کیا ہے جو تارکینِ وطن کو قانونی پناہ کے حصول کے لیے مبینہ طور پر جھوٹے اور جعلی شواہد فراہم کرتا تھا۔ حکام کے مطابق یہ گروہ تارکینِ وطن کو اس بات کی تربیت دیتا تھا کہ وہ برطانوی حکام کے سامنے خود کو ہم جنس پرست ظاہر کریں تاکہ انہیں سیاسی پناہ حاصل کرنے میں آسانی ہو۔ اس گھناؤنے کھیل کے ذریعے یہ گروہ ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی مشکلات کا فائدہ اٹھا رہا تھا۔
ابتدائی تحقیقات اور ذرائع کے مطابق یہ گروہ تارکینِ وطن سے ہر ایک کیس کے بدلے ساڑھے چار ہزار برطانوی پاؤنڈ تک کی بھاری رقم وصول کرتا تھا۔ اس رقم کے عوض انہیں جعلی دستاویزات، جھوٹی کہانیاں اور ایسے شواہد فراہم کیے جاتے تھے جو برطانوی امیگریشن قوانین کے تحت پناہ کی درخواست کی توثیق کے لیے استعمال ہو سکیں۔ ہوم آفس کے افسران نے مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر چھاپہ مار کر اس نیٹ ورک کے تین اہم کارندوں کو حراست میں لے لیا ہے جن سے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ پناہ کے نظام کا غلط استعمال کرنے والے عناصر کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ امیگریشن انفورسمنٹ کے ترجمان نے اس کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے فراڈ سے نہ صرف نظام کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ واقعی ضرورت مند اور حقیقی پناہ کے حق دار افراد کے حقوق بھی متاثر ہوتے ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ قانون کو دھوکہ دینے کی کوشش کرنے والے ایسے تمام گروہوں کے خلاف ملک بھر میں کریک ڈاؤن مزید تیز کیا جائے گا۔