World
برطانیہ میں جعلی پناہ کے دعووں پر پولیس کا کریک ڈاؤن
برطانوی پولیس نے تارکین وطن کو پناہ حاصل کرنے کے لیے جھوٹے ہم جنس پرست ہونے کا ناٹک کرنے میں مدد فراہم کرنے والے ایک منظم گروہ کے خلاف چھاپہ مار کارروائی کی ہے۔ یہ کارروائی بی بی سی کی اس تحقیقات کے بعد عمل میں آئی ہے جس میں قانون فرموں اور مشیروں کے اس گھناؤنے مکروہ دھندے کا پردہ فاش ہوا تھا۔
برطانوی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایسے منظم گروہ کے خلاف چھاپے مارے ہیں جو مبینہ طور پر تارکین وطن کو ملک میں پناہ حاصل کرنے کے لیے جعلی اور جھوٹے ہم جنس پرست ہونے کے دعوے تیار کرنے میں مدد فراہم کر رہا تھا۔ حکام کے مطابق اس گروہ کا بنیادی کام تارکین وطن کو قانونی و اخلاقی دائرے سے ہٹ کر ایسے طریقوں سے روشناس کرانا تھا جس سے وہ آسانی سے پناہ کے حصول میں کامیاب ہو سکیں۔
اس کریک ڈاؤن کی اصل وجہ اپریل میں سامنے آنے والی بی بی سی کی ایک تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ بنی، جس میں یہ ہوشربا انکشاف کیا گیا تھا کہ کچھ مخصوص قانون فرمیں اور پیشہ ور مشیر تارکین وطن کو باقاعدہ تربیت دے رہے ہیں کہ وہ خود کو ہم جنس پرست ظاہر کریں۔ اس فراڈ کا مقصد برطانوی حکومت اور امیگریشن حکام کو دھوکہ دینا تھا تاکہ وہ ان دعووں کی بنیاد پر پناہ کے قوانین کا غلط فائدہ اٹھا سکیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف شواہد جمع کر لیے گئے ہیں اور گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا چکی ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واضح کیا ہے کہ امیگریشن سسٹم کا استحصال کرنے اور دھوکہ دہی کے ذریعے پناہ حاصل کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایسے تمام عناصر کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق اس کارروائی کے بعد برطانوی پناہ کے نظام اور قانونی فرموں پر کڑی نظر رکھی جائے گی تاکہ مستقبل میں اس قسم کے فراڈ کو روکا جا سکے۔ حکومت پہلے ہی پناہ کے قوانین کو سخت بنانے پر غور کر رہی ہے تاکہ صرف واقعی مستحق افراد کو ہی تحفظ فراہم کیا جا سکے اور جعلسازوں کا راستہ روکا جا سکے۔