LIVE
Loading Breaking News...

کرسٹا پائیک: امریکہ میں ناکام پھانسی کے بعد قیدی ہوش میں

News Image
امریکہ میں سزائے موت کی پچاس سالہ قیدی کرسٹا پائیک پھانسی کی ناکام کوشش کے بعد ہوش میں آ گئی ہیں اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ ہسپتال میں بیڑیوں میں جکڑی ہوئی ہیں اور انہیں اہم طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
امریکہ میں سزائے موت کی قیدی پچاس سالہ کرسٹا پائیک کے وکلاء نے تصدیق کی ہے کہ وہ پھانسی دیے جانے کی ایک ناکام کوشش کے بعد ہوش میں آ چکی ہیں۔ اس حوالے سے سامنے آنے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ انہیں اس وقت ہسپتال میں انتہائی نگداشت اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جہاں وہ سخت سیکیورٹی حصار میں موجود ہیں۔ وکلاء کے مطابق اس پوری صورتحال نے قانونی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ناکام پھانسی کے عمل کے فوراً بعد کرسٹا پائیک کی طبیعت خراب ہو گئی تھی، جس کے بعد انہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ہسپتال میں وہ اس وقت بھی ہاتھوں اور پیروں میں ہتھکڑیوں اور بیڑیوں سے جکڑی ہوئی ہیں جبکہ ڈاکٹرز ان کی صحت کی نگرانی کر رہے ہیں۔ قانونی ماہرین اس واقعے کے تمام قانونی اور اخلاقی پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کیا جا سکے۔ کرسٹا پائیک کا شمار امریکہ میں طویل عرصے سے سزائے موت کے منتظر قیدیوں میں ہوتا ہے۔ ان کے وکلاء مسلسل عدلیہ سے اس کیس پر نظرثانی کی اپیل کر رہے ہیں جبکہ تازہ ترین واقعے نے جیل کے نظام اور سزائے موت کے طریقوں پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس کیس کی سماعت اور قانونی چارہ جوئی میں مزید تیزی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔