World
امریکی قانون سازوں کا فلسطینی ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی رہائی کا مطالبہ
امریکی ترقی پسند اراکینِ کانگریس نے اسرائیلی حکام کی جانب سے فلسطینی طبی کارکنوں کے مبینہ استحصال اور غیر قانونی حراست کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ قانون سازوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
امریکی ترقی پسند قانون سازوں نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینی طبی کارکنوں کو نشانہ بنانے اور انہیں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے کے خلاف سخت آواز بلند کی ہے۔ اراکینِ کانگریس نے باضابطہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں خدمات انجام دینے والے ممتاز فلسطینی ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ امریکی نمائندگان کا کہنا ہے کہ طبی عملے کی حفاظت بین الاقوامی قوانین کے تحت یقینی بنائی جانی چاہیے اور دوران حراست ان کے حقوق کا احترام کیا جائے۔
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی حراست کا یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں طبی نظام پہلے ہی تباہی کے دہانے پر ہے۔ امریکی قانون سازوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی طبی کارکن انتہائی کٹھن حالات میں اپنی جانیں جوکھم میں ڈال کر مریضوں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں، اور انہیں اس طرح نشانہ بنانا جنگی قوانین اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کے صریحاً منافی ہے۔ انہوں نے امریکی حکومت پر بھی زور دیا کہ وہ اس معاملے میں سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ زیر حراست تمام ڈاکٹروں اور طبی عملے کو فوری رہائی مل سکے۔
اسرائیلی حکام کی جانب سے فلسطینی طبی عملے کی پکڑ دھکڑ اور حراست پر بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی حمایت میں بیانات دیے ہیں اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی قانون سازوں کا یہ نیا اقدام واشنگٹن میں اس مسئلے پر بحث کو مزید تیز کر رہا ہے، جہاں پالیسی ساز اب غزہ میں طبی امداد اور طبی عملے کی حفاظت کے لیے زیادہ موثر اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔