LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ کی گرین پارٹی اور صصہیونزم سے متعلق نئی قرارداد

News Image
برطانیہ کی گرین پارٹی کی جانب سے ایک نئی قرارداد پیش کی گئی ہے جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ صصہیونزم نسل پرستی کی ایک شکل ہے۔ اس قرارداد کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔
برطانیہ کی گرین پارٹی کی جانب سے ایک انتہائی اہم اور بحث طلب قرارداد سامنے آئی ہے جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ صصہیونزم دراصل نسل پرستی کی ہی ایک شکل ہے۔ اس قرارداد کے پیش آنے کے بعد سے سیاسی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے درمیان گرما گرم بحث کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ گرین پارٹی کے اراکین اور اس نظریے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے دنیا بھر میں انصاف اور برابری کے اصولوں کو مزید تقویت ملے گی جبکہ ناقدین کی طرف سے اس پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ قرارداد آنے والے دنوں میں برطانیہ کے سیاسی منظر نامے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس موضوع پر کافی عرصے سے بحث جاری تھی اور اب باضابطہ طور پر اس کو قرارداد کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ اس پیشرفت نے بین الاقوامی سطح پر بھی مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے کیونکہ اس سے مشرق وسطیٰ کے تنازع اور عالمی سیاست پر طویل المدتی اثرات پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں اس قرارداد پر مزید بحث اور مباحثے متوقع ہیں جن میں مختلف طبقات کی آراء سامنے آئیں گی۔