LIVE
Loading Breaking News...

کارليس پوجڈيمونٹ اسپین واپس آ رہے ہیں، عدالت کا بڑا فیصلہ

News Image
اسپین کی آئینی عدالت نے کاتالان علیحدگی پسند رہنما کارليس پوجڈيمونٹ کے خلاف جاری وارنٹ کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد پوجڈيمونٹ کی طویل عرصے بعد اسپین واپسی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
اسپین کی آئینی عدالت نے ایک تاریخی فیصلے میں کاتالان کے جلاوطن رہنما کارليس پوجڈيمونٹ کے خلاف جاری ہونے والے وارنٹ گرفتاری کو ختم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت کی جانب سے یہ اقدام اس متنازع ایمنسٹی قانون کے تحت اٹھایا گیا ہے جو کاتالان علیحدگی پسند تحریک کے رہنماؤں پر لاگو ہوتا ہے۔ اس عدالتی پیش رفت کے بعد پوجڈيمونٹ کے لیے کئی سالوں کی جلاوطنی کے بعد اپنے وطن اسپین واپسی کی راہیں مکمل طور پر ہموار ہو چکی ہیں۔ کارليس پوجڈيمونٹ سنہ 2017 کے غیر قانونی کاتالان ریفرنڈم کے بعد سے اسپین سے باہر مقیم تھے اور زیادہ تر وقت بیلجیم میں گزارا۔ اسپین کی حکومت اور عدلیہ کی جانب سے ان پر بغاوت اور سرکاری فنڈز کے غبن کے الزامات عائد کیے گئے تھے، جن کی وجہ سے ان کی وطن واپسی ناممکن بنی ہوئی تھی۔ تاہم، حالیہ مہینوں میں سیاسی صورتحال میں تبدیلی اور اسپین کی پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کیے جانے والے عام معافی کے قانون نے اس طویل تنازع کا رخ موڑ دیا ہے۔ آئینی عدالت کے حالیہ فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ عام معافی کا قانون کاتالان کے ان رہنماؤں پر بھی لاگو ہوتا ہے جن پر آزادی کی تحریک کے دوران مختلف نوعیت کے مقدمات درج کیے گئے تھے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف کارليس پوجڈيمونٹ کو قانونی ریلیف ملا ہے بلکہ یہ اسپین اور کاتلونیا کے درمیان سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کی سمت میں بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ اب جب کہ قانونی رکاوٹیں دور ہو چکی ہیں، سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے زیر بحث ہے کہ کارليس پوجڈيمونٹ کی اسپین واپسی سے ملک کی قومی سیاست اور کاتلونیا کی علاقائی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کے حامیوں میں اس فیصلے کی وجہ سے شدید خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ اپنے رہنما کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ دوسری جانب، مرکزی اپوزیشن جماعتوں نے اس قانون اور عدالتی فیصلے پر تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے، لیکن عدالتی حکم کے بعد فی الحال حکومت کے لیے اس پر عمل درآمد کرنا آئینی مجبوری بن گیا ہے۔