World
اٹلی اور اسپین سرحدی تنازعہ، نئے قوانین کا اعلان
اٹلی نے اسپین سے آنے والے مسافروں کے لیے عارضی سرحدی چیکنگ شروع کر دی ہے جس کے بعد یورپی یونین میں سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔ تارکینِ وطن کے بحران کے پیشِ نظر یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے۔
اٹلی نے حال ہی میں اسپین سے آنے والے مسافروں کے لیے سرحدی چیکنگ کا دوبارہ نفاذ کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں سیاسی ہلچل میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یورپی یونین کے اندرونی قوانین اور سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینا ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب مہاجرین کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اٹلی کے اس فیصلے سے شینگن معاہدے اور یورپ کی آزادانہ نقل و حرکت کی پالیسی پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں، جسے یورپی رہنماؤں کی طرف سے گہری تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، اسپین میں مہاجرین کے بحران نے ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے جسے سوشل میڈیا پر بھی بھرپور طریقے سے اچھالا جا رہا ہے۔ بی بی سی اور دیگر عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق، سیاسی حلقوں میں اس صورتحال پر گرما گرم بحث جاری ہے اور حکومتوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ اس انسانی اور انتظامی مسئلے کا فوری حل نکالیں۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے، یورپی یونین نے منگل کے روز تمام رکن ممالک کے وزرائے داخلہ کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ اس اجلاس میں مہاجرین کے بڑھتے ہوئے دباؤ، سیوطہ کے بحران اور سرحدی کنٹرول کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جانے کا امکان ہے۔ مبصرین کے مطابق، اگر اس بحران پر قابو نہ پایا گیا تو یورپی یونین کے اندر آزادانہ سفر کی اجازت دینے والا شینگن نظام طویل المدتی خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔ ادھر، سوات اور افریقہ سے آنے والے بعض تارکینِ وطن کا کہنا ہے کہ انتہائی بھوک، کسمپرسی اور میزبان ممالک کی طرف سے ملنے والی ہاسٹائل پالیسیوں کی وجہ سے انہیں مجبوراً اسپین کے علاقے سیوطہ سے واپس مراکش کی طرف لوٹنا پڑا ہے۔ اس انسانی المیے نے بین الاقوامی تنظیموں کی توجہ بھی مبذول کرائی ہے جو مہاجرین کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں یورپی وزرائے داخلہ کا اجلاس اس پورے معاملے میں لائحہ عمل طے کرنے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا، جس پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔