LIVE
Loading Breaking News...

نئی دہلی میں اپوزیشن رہنما الیکشن کمیشن کے باہر گرفتار

News Image
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں الیکشن کمیشن کے باہر ووٹر لسٹوں میں مبینہ irregularities کے خلاف احتجاج کرنے والے اہم اپوزیشن رہنماؤں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر کی سیاسی فضا مزید کشیدہ ہو گئی ہے اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
نئی دہلی میں بھارتی الیکشن کمیشن کے باہر ووٹر لسٹوں کے معاملات اور مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے کئی سرکردہ اپوزیشن رہنماؤں کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ یہ پُرامن احتجاج پارلیمنٹیرینز اور مختلف اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کی قیادت میں منعقد کیا گیا تھا، جن کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت کو یقینی بنانا اور ووٹر لسٹوں سے متعلق خدشات کا اظہار کرنا تھا۔ ذرائع کے مطابق، احتجاج کے دوران پولیس کی بھاری نفری الیکشن کمیشن کے دفتر کے اطراف میں تعینات تھی۔ جب اپوزیشن ارکان نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی اور عمارت کی طرف بڑھنے کی کوشش کی، تو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعدد رہنماؤں کو حراست میں لے لیا اور انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں موقع پر موجود سیاسی کارکنوں اور پولیس کے درمیان ہلکی تلامی بھی دیکھنے میں آئی۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس گرفتاری کو جمہوریت کا گلا گھونٹنے کے مترادف قرار دیا ہے اور حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پُرامن احتجاج کرنا ہر شہری اور سیاسی نمائندے کا بنیادی آئینی حق ہے، لیکن حکومت ریاستی مشینری کا استعمال کرکے اختلافِ رائے کو دبانا چاہتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار تمام رہنماؤں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور الیکشن کمیشن ووٹر لسٹوں سے متعلق شکایات کا ازالہ کرے۔ اس واقعے کے بعد ملک کے سیاسی منظر نامے پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور آنے والے دنوں میں اپوزیشن کی جانب سے ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ الیکشن کمیشن اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی آنے والے انتخابی عمل پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، جبکہ حکومت کی طرف سے اس معاملے پر تاحال کوئی تردید یا تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔