World
شمالی مالی میں طوارق باغیوں کی کیدال سے پسپائی
شمالی مالی کے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل قصبے کیدال سے طوارق باغیوں نے پسپائی اختیار کر لی ہے۔ ازاواد لبریشن فرنٹ نے تصدیق کی ہے کہ مالی فوج اور روسی اتحادیوں کے فضائی حملوں کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔
شمالی مالی میں جاری کشیدگی میں اس وقت ایک اہم موڑ آ گیا جب طوارق باغیوں نے ملک کے انتہائی تزویراتی اور اہم قصبے کیدال سے اپنی پسپائی کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔ اس پیش رفت کو ملک میں جاری خانہ جنگی کے تناظر میں ایک بڑا فوجی اور سیاسی واقعہ سمجھا جا رہا ہے جس سے خطے کے طاقت توازن پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ باغی تنظیم کی طرف سے اس اقدام کی تصدیق کر دی گئی ہے۔
ازاواد لبریشن فرنٹ کے ترجمان نے اپنے بیان میں اعتراف کیا ہے کہ مالی کی باقاعدہ فوج اور ان کے غیر ملکی روسی اتحادیوں کی طرف سے کیے جانے والے مسلسل اور شدید فضائی حملوں نے کیدال میں ان کی پوزیشنز کو انتہائی کمزور کر دیا تھا۔ باغی رہنماؤں کے مطابق، اپنے جنگجوؤں کی جانوں کے تحفظ اور مزید نقصان سے بچنے کے لیے انہوں نے عارضی طور پر اس قصبے سے حکمت عملی کے تحت پیچھے ہٹنے کا مشکل فیصلہ کیا ہے۔
مالی کی مرکزی حکومت اور فوج طوارق باغیوں کے خلاف طویل عرصے سے نبردآزما ہے اور ملک کے شمالی علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں روسی سکیورٹی شراکت داروں کی آمد اور فضائیہ کی شمولیت کے بعد ملکی افواج کی کارروائیوں میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے، جس کے نتیجے میں باغیوں کو اہم مورچوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ کیدال کا زوال مالی تنازعے میں ایک نیا باب کھول سکتا ہے۔
دوسری جانب، خطے میں سکیورٹی کی اس بگڑتی ہوئی صورتحال نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی برادری کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ عام شہریوں کی نقل مکانی کا خدشہ بڑھ گیا ہے جبکہ خوراک اور ادویات کی فراہمی بھی متاثر ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور علاقائی تنظیموں نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سیاسی مذاکرات کی طرف لوٹنے کی اپیل کی ہے تاکہ مزید خون خرابے سے بچا جا سکے۔