World
کینیا میں ایبولا وائرس کا پہلا کیس سامنے آ گیا
کینیا میں ایبولا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق کر دی گئی ہے جہاں جمہوری جمہوریہ کانگو سے واپس آنے والا ایک شخص نائروبی میں انتقال کر گیا۔ جمہوری جمہوریہ کانگو میں تاریخ کے بدترین ایبولا پھیلاؤ کے دوران اب تک چਾਰ ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
کینیا کے محکمہ صحت نے ملک میں ایبولا وائرس کے پہلے کیس کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ حکام کے مطابق جمہوری جمہوریہ کانگو (ڈی آر کانگو) سے واپس آنے والا ایک شخص دارالحکومت نائروبی میں اس موذی مرض کے باعث جاں بحق ہو گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد کینیا کے طبی اور انتظامی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور ملک بھر کے ہوائی اڈوں اور سرحدی گزرگاہوں پر حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ طبی ماہرین متاثرہ شخص کے ساتھ رابطے میں آنے والے افراد کی تلاش اور ان کی سکریننگ کا عمل تیزی سے جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔
دوسری جانب، جمہوری جمہوریہ کانگو میں ایبولا کا موجودہ پھیلاؤ ملک کی تاریخ کا اب تک کا بدترین خونی بحران ثابت ہو رہا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ڈی آر کانگو میں اس خطرناک مرض کی وجہ سے اب تک چار ہزار سے زائد اموات واقع ہو چکی ہیں جبکہ مصدقہ کیسز کی تعداد آٹھ ہزار تین سو سے تجاوز کر چکی ہے۔ علاقائی اور بین الاقوامی صحت کے ادارے اس وبا پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہے ہیں مگر محدود وسائل اور حفاظتی مسائل کی وجہ سے صورتحال انتہائی تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ کینیا میں سامنے آنے والے اس نئے کیس نے خطے کے دیگر ممالک کو بھی الرٹ کر دیا ہے کیونکہ وائرس کے ہمسایہ ممالک میں منتقلی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور دیگر بین الاقوامی طبی تنظیمیں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کینیا کی حکومت کو ہر ممکنہ تکنیکی اور طبی مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جان لیوا مرض کو پھیلنے سے روکنے کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں، جن میں متاثرہ افراد کی جلد تشخیص، قرنطینہ کے سخت اصولوں کا نفاذ اور عام عوام میں احتیاطی تدابیر سے متعلق آگاہی مہم چلانا شامل ہے۔ کینیا کے عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک علامت کی صورت میں فوری طور پر قریبی طبی مراکز سے رجوع کریں تاکہ بروقت علاج کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی بڑے انسانی المیے سے بچا جا سکے۔