LIVE
Loading Breaking News...

فرانس میں اسکولوں کے احتجاج اور مظاہروں کی تازہ ترین صورتحال

News Image
فرانس میں اسکولوں کے نظام اور عدم مساوات کے خلاف طلباء، اساتذہ اور والدین کی ملک گیر احتجاجی تحریک میں جھڑپیں شدت اختیار کر گئی ہیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا ہے جبکہ کئی علاقوں میں کلاسیں معطل کر دی گئی ہیں۔
فرانس بھر میں تعلیمی اداروں کی حالت زار اور تعلیمی نظام میں پائی جانے والی عدم مساوات کے خلاف طلبا، اساتذہ اور والدین کی طرف سے شروع ہونے والے احتجاج نے شدت اختیار کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق حالیہ ہفتوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے ان مظاہروں اور ہڑتالوں نے پچھلی کئی دہائیوں کے دوران سب سے زیادہ اثرات مرتب کیے ہیں اور اسکولوں کا نظام شدید متاثر ہوا ہے۔ احتجاجی مظاہروں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مظاہرین کے درمیان کئی مقامات پر جھڑپیں بھی ہوئیں جنہیں قابو کرنے کے لیے پولیس کی طرف سے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ صورتحال کی خرابی کے پیش نظر حکام نے بعض علاقوں میں ہائی اسکولوں کی کلاسیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے اور کسی بڑے جانی نقصان سے بچا جا سکےـ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج محض چند اسکولوں کے مسائل تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے طویل عرصے سے درپیش مالی مشکلات، عمارتوں کی ابتر حالت اور تعلیمی بجٹ میں کمی جیسے سنگین مسائل کارفرما ہیں۔ ملک بھر میں غصے کی لہر اس وقت دوڑ گئی جب اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کی خستہ حالی اور طلباء کے لیے ناکافی سہولیات کے معاملات کھل کر سامنے آئے۔ والدین اور اساتذہ دونوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر تعلیمی نظام میں اصلاحات نافذ کرے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے بصورت دیگر یہ تحریک مزید وسعت اختیار کر سکتی ہے۔ دوسری جانب حکومت کی طرف سے صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تعلیمی اداروں کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ طلبا اور اساتذہ کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا جا سکے، تاہم کشیدگی میں تاحال کمی نہیں آئی۔