LIVE
Loading Breaking News...

کے پی میں گورنر راج کا امکان: پی ٹی آئی کا استعفیٰ دینے کا اعلان

News Image
پاکستان تحریک انصاف نے خبردار کیا ہے کہ اگر خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کیا گیا تو وہ اسمبلیوں سے اجتماعی استعفیٰ دے دیں گے۔ اس دوران وفاقی حکومت صوبے میں آئینی اقدامات پر غور کر رہی ہے جبکہ گورنر کے پی نے سیکیورٹی خدشات پر ہنگامی حالت کے نفاذ کا اشارہ دیا ہے۔
اسلام آباد اور پشاور کے سیاسی حلقوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی ہے جب پاکستان تحریک انصاف نے واضح کیا ہے کہ اگر خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو پارٹی کے تمام اراکین صوبائی اسمبلی سے مستعفی ہو جائیں گے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ صوبائی حکومت کو ہٹانے کے کسی بھی غیر آئینی یا آئینی حربے کا بھرپور جواب دینے کے لیے کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی نے اس اقدام کو جمہوریمینڈیٹ پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ عوام نے جس پارٹی کو ووٹ دیا ہے، اسے غیر جمہوری طریقوں سے ہٹانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب وفاقی حکومت اور متعلقہ ادارے صوبے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات اور امن و امان کی ابتر صورتحال کے پیش نظر مختلف آئینی اور قانونی اقدامات پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ وفاقی وزراء کا ماننا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں سخت فیصلے کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ اسی دوران گورنر خیبر پختونخوا نے بھی یہ انتباہ جاری کیا ہے کہ صوبے کو بچانے اور حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے ہنگامی حالت یا ایمرجنسی کا نفاذ کیا جا سکتا ہے، جس پر سیاسی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما امیر مقام نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور صوبے کو لاوارث قرار دیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ ذاتی طور پر فی الحال گورنر راج کے حق میں نہیں ہیں لیکن سیکیورٹی کے سنگین خطرات اب بھی اپنی جگہ برقرار ہیں۔ ادھر پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں نے صوبائی حکومت پر عائد کردہ دہشت گردی کے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ قرار دیا ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاق اور صوبے کے درمیان یہ کشیدگی آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس سے ملک میں ایک نئے سیاسی بحران جنم لینے کا خطرہ ہے۔