LIVE
Loading Breaking News...

قطر انرجی ایل این جی جہاز کی روانگی اور پاکستان کے گیس اقدامات

News Image
قطر انرجی کا ایل این جی بردار جہاز اپنے اے آئی ایس سسٹمز کو فعال رکھتے ہوئے آبنائے ہرمز کی جانب روانہ ہو گیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے بھی سردیوں کے سیزن میں گیس کی طلب کو پورا کرنے اور بلاتعطل درآمدات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
عالمی توانائی کی مارکیٹ میں اس وقت اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں قطر انرجی کا ایک ایل این جی بردار جہاز اپنے ٹریکنگ سسٹم یعنی اے آئی ایس کو مکمل طور پر فعال رکھتے ہوئے آبنائے ہرمز کی جانب روانہ ہو چکا ہے۔ اس اقدام کو بحری و توانائی کے شعبے میں سکیورٹی اور شفافیت کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ خطے میں حالیہ کشیدگی کے باعث تجارتی بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس جہاز کی بلا تعطل روانگی عالمی منڈی میں سپلائی چین کو برقرار رکھنے کے لیے ایک مثبت علامت ہے۔ اسی دوران، پاکستان کے اندر بھی توانائی کے محکمے میں سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور حکومت نے سردیوں کے موسم میں گیس کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ سردیوں کے دوران گھریلو اور صنعتی صارفین کو گیس کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے ایک جامع اور موثر لوڈ مینجمنٹ پلان تشکیل دیا جائے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ کسی بھی متوقع قلت سے بچنے کے لیے پیشگی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ملک میں توانائی کا بحران پیدا نہ ہو۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے اکتوبر کے مہینے کے لیے قطر سے تین اضافی ایل این جی کارگوز حاصل کرنے کی باضابطہ درخواست بھی دی ہے۔ آبنائے ہرمز کے راستے ہونے والی ترسیلات کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کے پیش نظر وزارتِ توانائی نے سپلائی کے خطرات پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے۔ پاکستان کی معیشت اور سردیوں کے موسم میں گیس کی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ درآمدی اقدامات انتہائی نوعیت کے حامل ہیں تاکہ ملک بھر میں گھروں اور کارخانوں کو گیس کی بلاتعطل فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔