World
گرین پارٹی کی رکن لبنہ اسپیتان اور القاعدہ حامی سے تعلقات کا انکشاف
عدالت میں ہونے انکشاف کے مطابق صہیونیت مخالف تحریک کے پیچھے موجود گرین پارٹی کی رکن لبنہ اسپیتان کو ہیٹرو بم سازش کیس میں چالیس سال قید کی سزا پانے والے منہ کوانگ فام کی قریبی دوست قرار دیا گیا ہے۔ لبنہ اسپیتان نے اس دہشت گرد حامی کے حق میں عدالت میں گواہی دینے کی پیشکش بھی کی تھی۔
برطانوی عدالت میں ایک اہم اور سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق صہیونیت مخالف قرارداد کے پیچھے متحرک سبز پارٹی (گرین پارٹی) کی ایک اہم رکن کو القاعدہ کے ایک قید حامی کا قریبی دوست قرار دیا گیا ہے۔ عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ لبنہ اسپیتان نامی اس خاتون نے منہ کوانگ فام نامی مجرم کے حق میں گواہی دینے کی پیشکش کی تھی۔ منہ کوانگ فام وہی شخص ہے جسے ہیٹرو ائیرپورٹ بم سازش کی تحقیقات کے بعد چالیس سال قید کی طویل سزا سنائی گئی تھی۔ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سیاسی حلقوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں انتہائی حساس شخصیات کے پس منظر اور ان کے روابط پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ عدالت میں پیش ہونے والے شواہد نے گرین پارٹی کی اس رکن کے کردار پر کئی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں، خاص طور پر جب ان کا تعلق ایک ایسے فرد سے ثابت ہوا ہے جو دہشت گردی کے سنگین الزامات کے تحت جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی گزار رہا ہے۔ قانون کے ماہرین اور سکیورٹی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس قسم کے انکشافات سیاسی جماعتوں کے اندرونی ڈھانچے اور ان کے ارکان کی جانچ پڑتال کے نظام پر سوالیہ نشان بنتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس خبر کے سامنے آنے کے بعد متعلقہ سیاسی رہنما کی پوزیشن نہ صرف کمزور ہوگی بلکہ مخالفین کو تنقید کا ایک موثر موقع بھی مل جائے گا۔ عدالت میں اس حوالے سے مزید کارروائی جاری ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کیس کے حوالے سے مزید اہم تفصیلات بھی منظر عام پر آئیں گی، جس سے اس تنازع کی تہہ تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔