Business
برطانیہ میں انرجی سرمایہ کاری خطرے میں، ایکوینور کی تنبیہ
معروف انرجی کمپنی ایکوینور نے خبردار کیا ہے کہ اگر نئے تیل اور گیس کے منصوبوں کی منظوری نہ دی گئی تو برطانیہ سرمایہ کاری کے لیے غیر موزوں ہو جائے گا۔ یہ انتباہ روز بینک اور جیک ڈاؤ کے متنازعہ پراجیکٹس کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
ناروے کی معروف توانائی کمپنی ایکوینور نے برطانوی حکومت کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر ملک میں نئے تیل اور گیس کے شعبوں کی ترقی کی اجازت نہ دی گئی تو برطانیہ مستقبل میں سرمایہ کاری کے لیے مکمل طور پر 'غیر قابلِ عمل' ہو جائے گا۔ کمپنی کے اعلیٰ حکام کا ماننا ہے کہ اس طرح کے فیصلوں سے ملکی توانائی کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور غیر ملکی سرمایہ کار اس مارکیٹ سے منہ موڑ سکتے ہیں۔ یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ کے اہم ترین منصوبوں جیسے کہ روز بینک اور جیک ڈاؤ کی منظوری کے حوالے سے غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔ انرجی سیکٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران کی وجہ سے نہ صرف روزگار کے مواقع متاثر ہوں گے بلکہ ملکی سطح پر تیل اور گیس کی پیداوار میں بھی نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ ایکوینور کا مؤقف ہے کہ روایتی توانائی کے ذرائع کو یکسر ختم کرنے کے بجائے ان میں متوازن سرمایہ کاری جاری رکھنا ناگزیر ہے تاکہ منڈی میں طلب اور رسد کا توازن قائم رہے۔ برطانوی حکومت کو اس صورتحال میں ایک مشکل توازن کا سامنا ہے جہاں ایک طرف ماحولیاتی تحفظ کے وعدے ہیں تو دوسری طرف معیشت اور توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کا چیلنج درپیش ہے۔ اگر حکومت نے ان منصوبوں کے حوالے سے جلد کوئی مثبت اور واضح لائحہ عمل طے نہ کیا تو آنے والے مہینوں میں برطانیہ کو شدید معاشی اور صنعتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس سے بین الاقوامی سطح پر اس کی ساکھ بھی متاثر ہو گی۔