World
کرسٹا پائیک کی سزائے موت ناکام، ہوش میں آنے پر قانونی بحث شروع
امریکہ کی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت پر عمل درآمد کے دوران دو مرتبہ زہر دینے کی ناکام کوشش کے بعد ڈیتھ رو کی قیدی کرسٹا پائیک کے بارے میں ان کے وکلاء نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اب ہوش میں ہیں اور باتیں کر رہی ہیں۔ اس غیر معمولی واقعے کے بعد قانونی اور طبی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔
امریکہ کی ریاست ٹینیسی میں ایک انتہائی غیر معمولی اور چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں سزائے موت کی سزا پانے والی ایک قیدی کرسٹا پائیک دو مرتبہ زہر دیے جانے کے باوجود زندہ بچ گئی ہیں اور اب وہ ہوش میں آکر بات چیت بھی کر رہی ہیں۔ اس بات کی تصدیق ان کے قانونی دفاعی وکلاء نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کی ہے۔ اس واقعے نے امریکی نظامِ انصاف اور سزائے موت کے طریقوں پر ایک بار پھر شدید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ریاست ٹینیسی کی جیل میں قید کرسٹا پائیک کو گزشتہ ہفتے سزائے موت دینے کے لیے مہلک انجکشن کے ذریعے زہر دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ تاہم، کسی تکنیکی یا طبی پیچیدگی کی وجہ سے پہلی بار میں کارروائی مکمل نہ ہو سکی اور حکام نے دوسری بار زہر دینے کا عمل دہرایا۔ اس کے باوجود وہ موت کے منہ سے واپس آ گئیں اور ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت مکمل طور پر ہوش میں ہیں اور بولنے کے قابل بھی ہیں۔
اس انہونی صورتحال کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں اور سزائے موت کے مخالفین کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی قیدی کو ایک سے زائد بار پھانسنے یا مہلک انجکشن دینے کی کوشش کرنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ دوسری جانب، ریاستی حکام اور جیل انتظامیہ اس پورے معاملے کی اندرونی تحقیقات کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ طے شدہ پروٹوکول کے باوجود یہ عمل کیوں ناکام ہوا۔
کرسٹا پائیک کے وکلاء اس صورتحال کو قانونی بنیادوں پر چیلنج کرنے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ ان کی موکلہ کی زندگی کو بچایا جا سکے یا کم از کم سزا پر نظرثانی کی جائے۔ اس غیر معمولی واقعے نے ایک بار پھر اس عالمی بحث کو تازہ کر دیا ہے کہ آیا ریاست کو کسی انسان کی جان لینے کا قانونی اور اخلاقی حق حاصل ہے یا نہیں۔ آنے والے دنوں میں اس کیس کی سماعت کے دوران مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔