World
نیپال سیلاب: لاپتہ افراد کے لواحقین انتظامی مسائل کا شکار
نیپال میں سیلاب کے دوران بہہ جانے والے درجنوں افراد کو مردہ قرار نہ دیے جانے کی وجہ سے ان کے اہل خانہ کو شدید قانونی اور انتظامی مشکلات کا سامنا ہے۔ لاپتہ افراد کے لواحقین سرکاری معاوضے اور دیگر امدادی رقوم سے محروم ہو چکے ہیں۔
نیپال میں حال ہی میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد ایک نئی اور دل دہلا دینے والی صورتحال سامنے آئی ہے، جہاں پانی کے ریلوں میں بہہ جانے والے سیکڑوں افراد کو تاحال سرکاری طور پر مردہ قرار نہیں دیا گیا ہے۔ اس سنگین انتظامی مسئلے کی وجہ سے متاثرہ خاندانوں کو نہ صرف اپنے پیاروں کی جدائی کا صدمہ جھیلنا پڑ رہا ہے بلکہ وہ شدید ترین قانونی اور مالی مشکلات میں بھی گھر گئے ہیں۔ قانون کے مطابق کسی بھی شخص کو مردہ قرار دینے کے لیے لاش کی موجودگی یا ایک طویل قانونی طریقہ کار کی ضرورت ہوتی ہے، جس سے متاثرہ خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
حکومتی قواعد و ضوابط کی پیچیدگیوں کی وجہ سے لواحقین کو اب تک کسی قسم کا سرکاری معاوضہ یا امداد نہیں مل سکی ہے۔ بہت سے خاندانوں کے لیے اپنے روزمرہ کے اخراجات چلانا بھی محال ہو چکا ہے کیونکہ گھر کے کفیل افراد سیلاب کی نذر ہو چکے ہیں مگر کاغذی کارروائی میں وہ اب بھی صرف لاپتہ کی فہرست میں شامل ہیں۔ اس انتظامی تعطل کی وجہ سے متاثرہ افراد کو سرکاری دفاتر اور تھانوں کے چکر کاٹنے پڑ رہے ہیں، جہاں انہیں درپیش پیچیدہ کارروائیوں کی وجہ سے ذہنی سکون بھی میسر نہیں ہے۔
سماجی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں نے حکومتِ نیپال سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ہنگامی صورتحال کے پیش نظر اپنے قوانین میں نرمی کرے اور قدرتی آفات کے متاثرین کے لیے ریلیف کے عمل کو فوری طور پر آسان بنائے۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس مشکل گھڑی میں حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ لواحقین کو تنہا نہ چھوڑے اور انہیں فوری طور پر مالی معاونت فراہم کرے تاکہ وہ اس بڑے سانبے کے اثرات سے باہر نکل سکیں۔
اگرچہ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے اب بھی کوشاں ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ طویل وقت گزر جانے کے بعد زندہ ملنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دینی چاہیے جو ان خاندانوں کے کاغذات اور معاوضے کے کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے تاکہ انہیں اس دوہرے عذاب سے نجات مل سکے۔