Business
فروزن یوگرٹ کی واپسی اور مہنگے داموں فروخت کا نیا رجحان
دو ہزار کی دہائی کا مشہور فروزن یوگرٹ ایک بار پھر برطانیہ سمیت دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ ماہرین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ اتنی مہنگی قیمت کے باوجود کیا یہ رجحان زیادہ دیر قائم رہ سکے گا۔
دو ہزار کی دہائی اور اس کے بعد کے برسوں میں دنیا بھر میں دھوم مچانے والا فروزن یوگرٹ (فرویو) ایک بار پھر مارکیٹ میں واپس آ گیا ہے۔ برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک میں اس کی نئی چینز اور دکانیں تیزی سے کھل رہی ہیں، جس سے صارفین میں پرانی یادیں تازہ ہو گئی ہیں۔ فروزن یوگرٹ کو آئس کریم کا ایک ہلکا اور نسبتاً صحت مند متبادل سمجھا جاتا تھا، اور یہی وجہ ہے کہ ماضی میں اس نے دیکھتے ہی دیکھتے زبردست مقبولیت حاصل کی تھی۔ تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ یہ کریزی ماند پڑ گیا تھا اور کئی برانڈز مارکیٹ سے غائب ہو گئے تھے۔
اب جب کہ یہ سوغات دوبارہ واپس آئی ہے، اس کے ساتھ ایک بڑا چیلنج بھی جڑا ہوا ہے اور وہ ہے اس کی آسمان کو چھوتی قیمت۔ آج کے دور میں فروزن یوگرٹ کا ایک ڈبہ یا ٹب بارہ برطانوی پاؤنڈ تک کی بھاری قیمت پر فروخت ہو رہا ہے۔ اتنی زیادہ قیمت نے صارفین اور معاشی ماہرین کو سوچ میں ڈال دیا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں کیا عام صارف اتنی مہنگی سوغات کو مستقل بنیادوں پر خریدنا پسند کرے گا؟ ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں لگژری اور پریمیم فوڈ آئٹمز کا رجحان زیادہ ہے، لیکن مہنگائی کے دباؤ کے پیش نظر اس کی پائیداری پر سوالیہ نشان موجود ہیں۔
دوسری جانب، اس کاروبار سے وابستہ افراد اور نئی چینز کے مالکان کا موقف ہے کہ جدید دور کے صارفین صحت بخش غذاؤں اور اعلیٰ معیار کے اجزاء کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔ اس بار فروزن یوگرٹ کو بالکل نئے ذائقوں، جدید اور دلکش پیکنگ اور مختلف قسم کی ٹاپنگز کے ساتھ متعارف کروایا جا رہا ہے، جو نوجوان نسل کو بالخصوص اپنی طرف راغب کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا بالخصوص انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر اس کی خوبصورت تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں، جو اس کی واپسی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا بارہ پاؤنڈ فی ٹب کی یہ مہنگی سوغات طویل عرصے تک مارکیٹ میں اپنی پوزیشن برقرار رکھ پاتی ہے یا نہیں۔ کیا یہ صرف ایک عارضی فیشن ثابت ہوگا یا واقعی ایک مضبوط کاروباری انقلاب کی شکل اختیار کرے گا، اس کا دارالحصہ اب صارفین کے ردعمل اور معاشی حالات پر منحصر ہوگا۔