LIVE
Loading Breaking News...

ہینگ زائٹی کیا ہے اور الکحل کے بعد پریشانی کیوں ہوتی ہے؟

News Image
زیادہ شراب نوشی کے بعد اگلے دن ہونے والی شدید ذہنی بے چینی اور گھبراہٹ کو ہینگ زائٹی کہا جاتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق الکحل کا جسمانی اور اعصابی نظام پر گہرا اثر پڑتا ہے جو اس کی بنیادی وجہ ہے۔
بہت سے لوگوں نے اس بات کا تجربہ کیا ہوگا کہ رات کو زیادہ الکحل لینے کے اگلے دن جب جسم میں ہینگ اوور کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں تو اس کے ساتھ ایک عجیب اور شدید قسم کی ذہنی بے چینی، خوف اور گھبراہٹ کی لہر بھی شروع ہو جاتی ہے۔ اس رجحان کو انگریزی میں 'ہینگ زائٹی' کا نام دیا گیا ہے، جو کہ 'ہینگ اوور' اور 'اینزائٹی' (پریشانی) کے الفاظ کا مجموعہ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ واقعی ایک سائنسی حقیقت ہے اور اس کی سائنسی وجوہات کیا ہیں۔ طبی ماہرین اور اس کے اثرات پر تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ احساس بالکل حقیقی ہے اور اس کے پیچھے ٹھوس جسمانی اور حیاتیاتی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ جب کوئی شخص الکحل کا استعمال کرتا ہے تو اس کے دماغ کے کیمیکلز پر اس کا براہ راست اثر پڑتا ہے۔ الکحل دماغ میں موجود ایک اہم کیمیکل 'گابا' (GABA) کی سطح کو بڑھاتی ہے، جو عام طور پر انسان کو پرسکون رکھنے اور تناؤ کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقتی طور پر انسان کو رلیکسیشن یا ہلکا پن محسوس ہوتا ہے۔ تاہم، جب جسم میں الکحل کا اثر ختم ہونا شروع ہوتا ہے تو دماغ اس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے مخالف سمت میں ردعمل ظاہر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں گابا کی سطح اچانک گر جاتی ہے اور ایک اور کیمیکل گلوٹامیٹ جو دماغ کو متحرک رکھتا ہے، بے قابو ہو جاتا ہے۔ اس کیمیائی عدم توازن کی وجہ سے انسان کو شدید بے چینی، چڑچڑاپن اور بلاوجہ کا خوف محسوس ہونے لگتا ہے جسے ہینگ زائٹی کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، الکحل کے استعمال سے نیند کا معیار بھی شدید متاثر ہوتا ہے۔ اگرچہ الکحل پینے کے بعد جلد نیند آ سکتی ہے، لیکن یہ گہری اور معیاری نیند نہیں ہوتی۔ رات بھر میں بار بار آنکھ کھلنا اور جسمانی تھکن بھی اگلے دن کی ذہنی بے چینی کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ اس کیفیت سے بچنے کا بہترین طریقہ الکحل کے استعمال میں اعتدال برتنا یا اس سے مکمل پرہیز کرنا ہے، اور اگر یہ مسئلہ پیش آئے تو خود کو ہائیڈریٹ رکھنا اور آرام کرنا چاہیے۔