World
سوڈان: جنرل البرہان کا مذاکرات سے انکار اور تمام علاقہ واگزار کرانے کا عزم
سوڈان کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان نے باغی فورسز کے ساتھ مذاکرات مسترد کرتے ہوئے ملک کا تمام علاقہ واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب مغربی کردوفان اور نیلِ ازرق میں جھڑپوں کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتیں اور نقل مکانی کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
سوڈان میں جاری شدید خانہ جنگی کے دوران مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان نے باغی ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کرنے سے دوٹوک الفاظ میں انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ فوج ملک کے طول و عرض میں موجود تمام علاقوں کو باغیوں کے قبضے سے مکمل طور پر واگزار کروائے گی اور ریاست کی رٹ بحال کی جائے گی۔ جنرل البرہان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے مختلف حصوں میں فریقین کے درمیان مسلح تصادم میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے اور عام شہریوں کو شدید جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق سوڈان میں جاری اس تازہ کشیدگی اور جھڑپوں کے دوران انسانی بحران مزید سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ حالیہ پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں مغربی کردوفان کے علاقے میں کم از کم دس معصوم شہری لقمہ اجل بن گئے ہیں، جس سے علاقائی سطح پر خوف و ہراس کی فضا مزید گہری ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ نیلِ ازرق کے علاقے میں بھی سکیورٹی کی ابتر صورتحال کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں لگ بھگ پچپن سو افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے سوڈان میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ جنگ کے پھیلاؤ کی وجہ سے متاثرہ علاقوں تک خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی کی ترسیل انتہائی مشکل ہو چکی ہے۔ طبی سہولیات کی عدم دستیابی اور سکیورٹی کے شدید بحران نے عام شہریوں کی زندگیوں کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر جنگ بندی کی تمام کوششیں تاحال بارآور ثابت نہیں ہو سکیں۔
فوجی قیادت کے اس سخت مؤقف کے بعد یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں سوڈان میں خانہ جنگی کی شدت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سیاسی اور عسکری سطح پر بات چیت کے دروازے بند ہونے سے عام عوام کی مصائب میں مزید اضافہ ہوگا، کیونکہ فریقین کے مابین فیصلہ کن معرکے کی تیاریاں تیز ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ عالمی برادری ایک بار پھر فریقین پر زور دے رہی ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے اور انسانی بنیادوں پر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔