LIVE
Loading Breaking News...

ٹوکیو میں امریکی فوجی موجودگی اور اوکیناوا واقعے پر احتجاج

News Image
جاپانی دارالحکومت ٹوکیو میں امریکی سفارت خانے کے باہر شہریوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ یہ مظاہرہ ایک امریکی میرین کی گرفتاری کے بعد کیا گیا جو ایک خاتون کے قتل میں ملوث ہے۔
جاپانی دارالحکومت ٹوکیو میں امریکی سفارت خانے کے باہر سینکڑوں افراد نے جمع ہو کر شدید احتجاج کیا۔ یہ احتجاجی مظاہرہ ایک امریکی میرین کی گرفتاری کے بعد عمل میں آیا ہے جو 39 سالہ جاپانی خاتون کے قتل کے بہیمانہ واقعے میں ملوث بتایا جاتا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر جاپان میں امریکی فوجی اڈوں اور وہاں تعینات اہلکاروں کی موجودگی کے حوالے سے طویل عرصے سے جاری عوامی غم و غصے کو ہوا دے دی ہے۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور وہ امریکی فوجیوں کے خلاف سخت نعرے بازی کر رہے تھے۔ مقتولہ خاتون کے قتل کے اس واقعے نے مقامی آبادی میں شدید صدمہ اور بے چینی پھیلا دی ہے۔ اوکیناوا اور ٹوکیو سمیت مختلف علاقوں میں عوام کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ امریکی فوجیوں کے قوانین اور ان کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جائے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی افواج کی موجودگی سے مقامی شہریوں کے جان و مال کا تحفظ خطرے میں پڑ جاتا ہے اور ایسے جرائم کسی صورت قابل برداشت نہیں ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے پر امریکہ کے ساتھ سخت سفارتی سطح پر بات چیت کرے۔ واضح رہے کہ جاپان کے جزیرے اوکیناوا میں بڑی تعداد میں امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں، اور ماضی میں بھی ان کی وجہ سے مقامی سطح پر تنازعات پیدا ہوتے رہے ہیں۔ اس تازہ ترین واقعے کے بعد دوطرفہ تعلقات اور دفاعی معاہدوں کے حوالے سے بھی سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قتل کے واقعے سے جاپان اور امریکہ کے درمیان سکیورٹی تعاون کے معاملات پر اثر پڑ سکتا ہے کیونکہ جاپانی عوام کی طرف سے امریکی فوجی اڈوں کے انخلاء یا ان کے دائرہ کار کو محدود کرنے کے مطالبات میں تیزی آ رہی ہے۔