Pakistan
عمران خان کے کزن قاسم زمان ایم پی او کے تحت گرفتار
پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے کزن قاسم زمان کو اڈیالہ جیل کے باہر سے تیس دن کے لیے حراست میں لے لیا گیا ہے۔ راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر نے امن عامہ کے آرڈیننس کے تحت ان کی حراست کا حکم جاری کیا۔
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے کزن قاسم زمان کو منگل کے روز اڈیالہ جیل کے باہر سے حراست میں لے لیا گیا جب وہ سابق وزیراعظم سے ملاقات کے لیے وہاں پہنچے تھے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر نے پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت ان کی تیس دن کے لیے نظربندی کا حکم جاری کیا تھا۔ پی ٹی آئی کے رہنما اویس یونس چوہدری نے بتایا کہ قاسم زمان اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کے تحت عمران خان سے ملاقات کے لیے جیل جاتے تھے، کیونکہ عدالت نے ہفتے میں دو دن منگل اور جمعرات کو ملاقات کی اجازت دی تھی۔ منگل کی دوپہر جب وہ گورکھپور ناکے کے قریب پہنچے اور حکام کو آگاہ کیا تو پولیس نے انہیں حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ بعد میں راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر ندیم ناصر کا جاری کردہ نظربندی کا حکم نامہ بھی سامنے آگیا۔ اس حکم نامے میں پولیس کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ قاسم زمان ایک سیاسی کارکن ہیں جو مبینہ طور پر پرتشدد احتجاج اور غیر قانونی اجتماعات کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا آزاد گھومنا امن عامہ اور عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، جس کی روشنی میں ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی نے ان کی نظربندی کی سفارش کی۔ اس پیش رفت کے بعد ڈپٹی کمشنر نے ایم پی او کے سیکشن 3 کے تحت تیس دن کی نظربندی کا حکم نامہ جاری کر دیا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو بھی مختلف مواقع پر حراست میں لیا جا چکا ہے۔ دوسری جانب، تحریک تحفظ آئین پاکستان اور دیگر رہنماؤں نے قاسم زمان کی گرفتاری کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ریاستی جبر اور فاشزم قرار دیا ہے۔ اپوزیشن اتحاد کے ترجمان نے ان کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ محض رشتہ داری کی بنیاد پر شہریوں کو نشانہ بنانا بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ادھر وکلاء اور دیگر رہنماؤں نے بھی اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود خاندان اور پارٹی رہنماؤں کو جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملنے نہیں دیا جا رہا، جو کہ عدالتی احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔