LIVE
Loading Breaking News...

روس میں طاعون کا خطرہ، طبی عملہ اور دو سو افراد نگرانی میں

News Image
روس میں ایک لیبارٹری ورکر کی طاعون سے ہلاکت کے بعد انتظامیہ نے سخت حفاظتی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ اس واقعے کے بعد تقریبا دو سو افراد کو طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے جبکہ عالمی سطح پر بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
روس میں ایک لیبارٹری ورکر کی طاعون کے مرض سے ہلاکت کے بعد ملک بھر میں حفاظتی اقدامات اور طبی نگرانی کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سائیبیریا کے انسٹی ٹیوٹ آف اینٹی پلگ سے وابستہ عملے کو فوری طور پر قرنطینہ میں منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ اس خطرناک مرض کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ اس اندوہناک واقعے کے بعد تقریباً دو سو افراد کو طبی نگرانی کے تحت رکھا گیا ہے جن کا قریبی طبی معائنہ جاری ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ارکتسک کے مقام پر واقع اس تحقیقاتی لیبارٹری میں کام کرنے والے ایک کارکن کی موت طاعون یعنی پلگ ڈیزیز کے باعث واقع ہوئی۔ اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد روسی حکام نے فوری طور پر چیک لسٹس، ماسکس اور دیگر حفاظتی پروٹوکولز نافذ کر دیے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ کے ارد گرد حفاظتی حصار قائم کر دیا گیا ہے اور تمام ممکنہ رابطوں کا سراغ لگایا جا رہا ہے تاکہ وائرس یا بیکٹیریا کے پھیلاؤ کو بروقت روکا جا سکے۔ اس صورتحال نے نہ صرف روس بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ بین الاقوامی طبی ادارے اور حکام اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ دوسری جانب معلومات کے حصول اور ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے تیاریوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ طاعون ایک انتہائی مہلک مرض ہے جو اگر بروقت قابو میں نہ لایا جائے تو یہ بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اور لیبارٹری کے اندرونی امور کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ متاثرہ علاقے میں طبی ٹیمیں الرٹ پر ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہسپتالوں میں خصوصی وارڈز قائم کر دیے گئے ہیں۔ عالمی برادری بھی اس معاملے پر روسی حکام سے مکمل تعاون اور شفاف معلومات کی توقع کر رہی ہے۔