Politics
ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے بارے میں متنازعہ بیان اور وائٹ ہاؤس کا موقف
وائٹ ہاؤس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کا دفاع کیا ہے جس میں انہوں نے ایران کی طرف سے لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کو نشانہ بنائے جانے کا ذکر کیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تبصرہ محض غیر مربوط تھا اور اس کے پਿੱچھے کوئی بدنیتی یا نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں تھا۔
واشنگٹن: امریکی دارالحکومت میں سیاسی حلقوں کی طرف سے جاری بحث کے درمیان وائٹ ہاؤس نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کا باضابطہ دفاع کیا ہے جس میں انہوں نے ایران کی جانب سے لاس اینجلس اور سان ڈیاگو جیسے بڑے امریکی شہروں کو نشانہ بنانے کا ذکر کیا تھا۔ ذرائع ابلاغ اور سیاسی مبصرین کی طرف سے اس بیان کو لے کر شدید ردعمل سامنے آیا تھا، تاہم انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ یہ ریمارکس کسی بھی طرح سے نقصان پہنچانے کی نیت سے نہیں دیے گئے تھے۔ کیلیفورنیا کے رہائشیوں اور مقامی رہنماؤں کی طرف سے ٹرمپ کے اس بیان پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا، جن کا کہنا تھا کہ اس طرح کی باتیں ملکی سلامتی اور شہریوں کے جذبات کو مجروح کرتی ہیں۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ایک قریبی مشیر نے میڈیا کے اس طوفان کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو بلاوجہ طول دیا جا رہا ہے اور ٹرمپ کے الفاظ کا مطلب غلط انداز میں نکالا گیا ہے۔ اسی دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک اور بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی یا ممکنہ تنازعہ جلد اپنے انجام کو پہنچ سکتا ہے، اور انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس کے نتیجے میں ملک میں اشیائے صرف کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔ ان بیانات نے ایک بار پھر ملکی سیاسی منظر نامے میں گرما گرم بحث کو جنم دیا ہے جہاں حریف سیاسی جماعتیں اور میڈیا کے ادارے اس صورتحال پر مسلسل کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔