LIVE
Loading Breaking News...

فرانس میں اسکولوں کے ہنگامے اور احتجاج، پولیس کا کریک ڈاؤن

News Image
فرانس بھر میں اسکولوں کے طلباء کے احتجاج کے دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ ہنگاموں کے دوران سیکڑوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ تعلیمی اداروں میں کشیدہ صورتحال برقرار ہے۔
فرانس بھر میں تعلیمی نظام میں عدم مساوات اور اسکولوں کی خستہ حالی کے خلاف جاری طلباء کے احتجاج نے شدت اختیار کر لی ہے، جس کے بعد حکام کو سخت اقدامات اٹھانا پڑے۔ فرانسیسی پولیس نے مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا بے دریغ استعمال کیا، جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے جھگڑوں کے دوران سیکڑوں افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسکولوں کے یہ احتجاج حالیہ دہائیوں میں ہونے والے سب سے بڑے اور نقصان دہ احتجاج میں شمار ہو رہے ہیں، جن کی وجہ سے نظامِ تعلیم شدید متاثر ہوا ہے۔ اس ملک گیر تحریک کے نتیجے میں فرانسیسی حکومت نے بعض علاقوں میں ہائی اسکولوں کی کلاسیں معطل کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ مزید تشدد اور تصادم کو روکا جا سکے۔ طلباء کا مؤقف ہے کہ ملک کے سرکاری اسکولوں کی حالت انتہائی خراب ہے اور تعلیمی نظام میں پائی جانے والی عدم مساوات نے غریب اور متوسط طبقے کے طلباء کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے میڈیا اور سول سوسائٹی کے حلقوں میں بھی شدید بحث جاری ہے کہ آیا تعلیمی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امن و امان کی بحالی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، تاہم اسکولوں کے باہر جاری مظاہروں اور پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ احتجاج نہ صرف تعلیمی مسائل کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ یہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف وسیع تر عوامی اور نوجوان طبقے کے غصے کا اظہار بھی ہیں۔ انتظامیہ نے اسکولوں کی اصلاحات کے مطالبات پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے، لیکن فی الحال ملک بھر میں خوف اور کشیدگی کا ماحول پایا جاتا ہے۔