Business
آبِ ہرمز میں حملے اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں
آبِ ہرمز میں حالیہ حملوں اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی برآمدات کی نازک بحالی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ منڈی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی برآمدات کی حالیہ نازک بحالی پر ایک بار پھر خطرے کے بادل منڈلانے لگے ہیں کیونکہ آبِ ہرمز میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات اور حملوں نے سپلائی چین کو عدم استحکام کا شکار کر دیا ہے۔ سی این بی سی اور دیگر بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبِ ہرمز کے اہم بحری راستے پر خطرات کے باعث تیل کی قیمتیں مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔ حال ہی میں کچھ علاقوں سے تیل کی برآمدات میں معمولی بہتری دیکھنے میں آئی تھی، لیکن اس سمندری راستے پر بڑھتے ہوئے دباؤ نے تجارتی سرگرمیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبِ ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کوریڈورز میں سے ایک ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل گزرتا ہے۔ اس راستے پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا حملے کے براہ راست اثرات عالمی منڈی میں قیمتوں کے بڑھنے کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ طوفانوں اور فضائی حملوں کی اطلاعات نے پہلے ہی رسد کے بارے میں خدشات کو جنم دے رکھا تھا، اور اب اس میں سکیورٹی کے نئے چیلنجز کا اضافہ ہو گیا ہے۔ دوسری جانب، جی سیون (G-7) ممالک کی جانب سے خام تیل اور ڈیزل کے ذخائر جاری کرنے کے منصوبوں کے باوجود مارکیٹ کے خطرات بدستور برقرار ہیں۔ تاجر اور سرمایہ کار اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اگر یہ حملے اور کشیدگی جاری رہی تو توانائی کی عالمی منڈی میں ایک بار پھر بحران کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگرچہ عارضی طور پر قیمتیں کچھ حد تک مستحکم نظر آتی ہیں، لیکن طویل مدتی بنیادوں پر آبِ ہرمز کی سلامتی کے بغیر تیل کی سپلائی کا پائیدار رہنا انتہائی مشکل ہے۔