LIVE
Loading Breaking News...

کبوٹز نیر عوز کے رہائشیوں کی بحالی اور تعمیر نو کی جدوجہد

News Image
سات اکتوبر کے حملوں میں شدید تباہی کا شکار ہونے والے کبوٹز نیر عوز کے رہائشی اب وہاں واپس لوٹنا شروع ہو گئے ہیں۔ تباہ شدہ بستی کے مکینوں کو اپنی زندگی اور گھروں کی از سر نو تعمیر کے لیے بے پناہ مشکلات اور چیلنجز کا سامنا ہے۔
سات اکتوبر کے المناک حملوں میں شدید ترین تباہی کا نشانہ بننے والی بستی کبوٹز نیر عوز کے رہائشیوں کو اب ایک طویل اور کٹھن جدوجہد کا سامنا ہے کیونکہ وہ اس مقام پر دوبارہ زندگی شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس خونی واقعے کو گزرے ہوئے اب تین سال ہونے کو ہیں، جس دوران اس چھوٹے سے علاقے میں 47 افراد ہلاک اور 76 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا، جو کہ اس خطے کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ کچھ جانبر ہونے والے افراد اپنے تباہ شدہ گھروں اور اجڑے ہوئے دیار میں واپس لوٹ آئے ہیں، مگر وہاں زندگی کو دوبارہ پٹری پر لانا انتہائی مشکل امر بن چکا ہے۔ واپس آنے والے خاندانوں کو نہ صرف مادی نقصان کے ازالے کا سامنا ہے بلکہ انہیں شدید نفسیاتی اور جذباتی صدمات سے بھی نبرد آزما ہونا پڑ رہا ہے۔ مکانات راکھ کا ڈھیر بن چکے ہیں، اور جو عمارتیں کسی حد تک سلامت ہیں، وہ بھی اس سانحے کی ہولناک یادوں کی گواہ ہیں۔ کبوٹز کے اراکین باہم مل کر ان گنت مشکلات کے باوجود اپنے علاقوں کو آباد کرنے کے عزم کے ساتھ سرگرم عمل ہیں، لیکن اس بات کا اعتراف کیا جا رہا ہے کہ معمول کی زندگی کی طرف واپسی کا یہ سفر انتہائی طویل اور درد ناک ہو گا۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی طرف سے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی کا کام اتنی جلدی ممکن نہیں ہے۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ نیر عوز کی فضاؤں میں آج بھی اس دن کے خوف کے سائے منڈلاتے ہیں، لیکن ان کی ہمت اور حوصلہ اس بات کا غماز ہے کہ وہ اپنے پیاروں کی یاد میں اس زمین کو دوبارہ آباد کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بحالی کا عمل نہ صرف ان کے لیے اپنے گھر کی واپسی ہے بلکہ یہ اس عزم کا اعادہ بھی ہے کہ وہ اس طوفان کے بعد بھی جینے کا ہنر جانتے ہیں۔