LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی آرمی کالج میں زیادتی کے الزامات، تربیتی مراکز کی تحقیقات

News Image
برطانیہ کے ایک آرمی کالج میں چار نوجوان خواتین کی طرف سے جنسی زیادتی اور ہراسانی کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ ان لرزہ خیز انکشافات کے بعد تمام متعلقہ فوجی تربیتی مراکز کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
برطانیہ کے فوجی حلقوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب اگست کے مہینے میں چار نوجوان خواتین نے بی بی سی کو دیے گئے اپنے انٹرویوز میں ہیروگیٹ میں واقع آرمی اسکول کے اندر جنسی زیادتی اور شدید ہراسانی کا نشانہ بننے کے خوفناک انکشافات کیے۔ ان الزامات نے برطانوی فوج کے اندر نظم و ضبط اور خواتین کی سلامتی کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس کے بعد حکومت اور عسکری قیادت نے اس معاملے پر فوری اور سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ متاثرہ خواتین کی جانب سے سامنے آنے والی ان تفصیلات کے بعد اب ملک بھر میں موجود فوجی تربیتی مراکز اور ملٹری اسکولوں کے اندرونی نظام کی جامع تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ اس طرح کے واقعات کی جڑوں تک پہنچا جا سکے اور ذمہ داران کا کڑا محاسبہ کیا جا سکے۔ اس تحقیقات کا مقصد نہ صرف ماضی کے ان واقعات کی حقیقت سامنے لانا ہے بلکہ مستقبل میں ایسے اداروں کے اندر ہر قسم کے امتیازی سلوک اور جنسی استحصال کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کرنا بھی ہے۔ برطانوی وزارتِ دفاع اور فوج کے اعلیٰ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ادارے کے اندر کسی بھی سطح پر اس قسم کے گھناؤنے جرائم کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور انصاف کے تقاضے سختی سے پورے کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں ایک آزادانہ کمیشن بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے جو تمام ملٹری اسکولوں اور ٹریننگ سائٹس کا دورہ کر کے وہاں کے ماحول کا جائزہ لے گا اور متاثرہ کیڈٹس یا عملے کے بیانات ریکارڈ کرے گا۔ اس اہم اور حساس معاملے پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور عوامی حلقوں کی طرف سے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ملٹری اداروں میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہاں زیرِ تربیت تمام نوجوان مرد و خواتین بلا کسی خوف و خطر اپنے فرائض انجام دے سکیں۔