LIVE
Loading Breaking News...

ریپبلکن امیدوار اور ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاست کا تنازع

News Image
نومبر میں ہونے والے انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کے امیدوار اس مخمصے کا شکار ہیں کہ وہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کس حد تک فاصلہ رکھیں یا قربت اختیار کریں۔ ٹرمپ پارٹی پر تاحال مضبوط گرفت رکھتے ہیں لیکن عام ووٹرز میں ان کی غیر مقبولیتی امیدواروں کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہے۔
امریکہ میں نومبر میں ہونے والے اہم ترین انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کے کئی امیدواروں کو ایک انتہائی مشکل سیاسی آزمائش کا سامنا ہے۔ یہ امیدوار اس مخمصے میں مبتلا ہیں کہ آیا وہ ڈونلڈ ٹرمپ سے سیاسی فاصلہ اختیار کریں یا پھر ان کی حمایت کے ساتھ انتخابی میدان میں اتریں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اگرچہ صدارتی عہدے پر فائز نہیں ہیں، لیکن وہ اب بھی اپنی پارٹی کے اندر ایک غالب اور طاقتور ترین سیاسی شخصیت کے طور پر موجود ہیں جن کے ووٹرز پر گہرے اثرات ہیں۔ دوسری طرف، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عام ووٹرز کے ایک بڑے حلقے میں ٹرمپ کی غیر مقبولیتی امیدواروں کے لیے پریشانی کا باعث بن رہی ہے، خاص طور پر اعتدال پسند اور سوئنگ ریاستوں میں۔ امیدواروں کے لیے یہ فیصلہ کرنا انتہائی کٹھن ہو گیا ہے کہ پارٹی کے سخت گیر حامیوں کو ناراض کیے بغیر عام ووٹرز تک کیسے رسائی حاصل کی جائے۔ ریپبلکن کیمپ میں یہ بحث شدت اختیار کرتی جا رہی ہے کہ آیا ٹرمپ کی تقلید کی جائے یا ان کی پالیسیوں سے کسی حد تک اعتدال کا راستہ اپنایا جائے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق، جو امیدوار اس سیاسی رسی پر توازن برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے، وہی نومبر کے انتخابی میدان میں کامیابی کی منزل تک پہنچ پائیں گے۔ انتخابات جیسے جیسے قریب آ رہے ہیں، امیدواروں کی جانب سے اپنی انتخابی حکمت عملی میں بھی تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں تاکہ ٹرمپ کے اثر و رسوخ کے منفی پہلوؤں سے بچتے ہوئے ان کے ووٹر بیس کو برقرار رکھا جا سکے۔