World
برطانوی جنسی جرائم کا ملزم پاکستان فرار، متاثرین کا ردعمل
برطانیہ میں سنگین جنسی جرائم کے مقدمے کا سامنا کرنے والا امر الیاس ضمانت پر رہائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان فرار ہو گیا۔ اس کے اس اقدام سے متاثرہ خواتین نے اپنے آپ کو شدید دھوکہ خوردہ اور انصاف سے محروم قرار دیا ہے۔
برطانیہ میں جنسی جرائم کے ایک اہم مقدمے میں نامزد ملزم امر الیاس ضمانت پر رہائی کے بعد عدالتی کارروائی کا سامنا کیے بغیر پاکستان فرار ہو گیا ہے، جس کے بعد اس کیس کی متاثرہ خواتین نے شدید غم و غصے اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق امر الیاس پر سنگین جنسی جرائم کے الزامات عائد کیے گئے تھے اور اسے عدالت کی طرف سے ضمانت دی گئی تھی تاکہ وہ مقدمے کے ٹرائل میں شریک ہو سکے۔ تاہم وہ عدالتی تاریخوں پر حاضر ہونے کے بجائے ملک چھوڑ کر روپوش ہو گیا اور پاکستان چلا گیا۔ اس عدالتی غفلت اور ملزم کے فرار ہونے پر متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ وہ خود کو یکسر فراموش شدہ اور دھوکہ خوردہ محسوس کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انصاف کے حصول کے لیے طویل قانونی جنگ لڑنے کے باوجود ملزم کا اس طرح ملک سے فرار ہو جانا نظامِ انصاف کی ایک بڑی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ متاثرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے انصاف کے نظام پر سے عوام کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے اور مجرموں کو قانون کے شکنجے سے بچنے کا موقع مل جاتا ہے۔ دوسری جانب، برطانوی حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی واپسی اور اسے قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام ممکنہ بین الاقوامی قانونی ذرائع اور سفارتی راستے بروئے کار لائے جائیں گے۔ اس واقعے کے بعد برطانیہ میں ملزمان کی ضمانت کے قوانین پر بھی ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا سنگین الزامات کا سامنا کرنے والے افراد کو اس طرح کی آزادی دی جانی چاہیے یا نہیں۔ متاثرہ خواتین نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس معاملے میں فوری طور پر مداخلت کرے اور پاکستانی حکام کے ساتھ قریبی رابطہ کر کے ملزم کو واپس برطانیہ لانے کے لیے اقدامات کرے تاکہ انہیں بروقت اور حقیقی انصاف فراہم کیا جا سکے