LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل کی تین سالہ جنگ اور غزہ کی تباہ حال زندگی

News Image
اسرائیل کی مسلسل تین سالہ جارحیت نے غزہ کی معیشت، صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ اس تباہی نے پٹی کے مکینوں کی روزمرہ زندگی کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔
فلسطین کے محاصرہ زدہ علاقے غزہ پر اسرائیل کی مسلسل تین سالہ جنگ نے زندگی کے ہر شعبے کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ اس طویل المدتی تنازعے نے نہ صرف لاکھوں شہریوں کو بے گھر کیا ہے بلکہ یہاں کی معیشت، صحت کا نظام، تعلیم اور تمام بنیادی عوامی خدمات کو بھی زمین بوس کر دیا ہے۔ اسپتالوں، اسکولوں اور رہائشی عمارتوں کے ملبے کا ڈھیر بن جانے سے غزہ میں انسانی بحران سنگین ترین شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں بنیادی ضروریات زندگی تک رسائی بھی ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔ معاشی لحاظ سے غزہ اب مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ تجارتی سرگرمیاں بند پڑی ہیں، کاروبار تباہ ہو چکے ہیں اور روزگار کے تمام ذرائع ختم ہونے کی وجہ سے اکثر آبادی بین الاقوامی امداد پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔ زرعی اراضی اور کارخانے تباہ ہو جانے کی وجہ سے مقامی سطح پر پیداوار کا کوئی نظام باقی نہیں بچا، جس سے خطے میں غذائی قلت اور افلاس کی شرح میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ صحت کا شعبہ اس تباہی کا سب سے بڑا شکار بنا ہے۔ بمباری کے نتیجے میں درجنوں اسپتال اور طبی مراکز یا تو مکمل تباہ ہو گئے ہیں یا پھر ایندھن، ادویات اور طبی عملے کی شدید قلت کے باعث نیم مردہ حالت میں کام کر رہے ہیں۔ ہزاروں زخمی اور بیمار افراد بروقت علاج نہ ملنے کے باعث زندگی کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ صاف پانی کی فراہمی نہ ہونے سے وبائی امراض بھی तेजी سے پھیل رہے ہیں۔ تعلیمی نظام کی صورتحال بھی انتہائی دگرگون ہے۔ مسلسل تین سال سے اسکول اور جامعات بند پڑے ہیں یا پھر انہیں بے گھر افراد کے لیے عارضی پناہ گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ لاکھوں بچوں کا مستقبل تاریکی میں ڈوب چکا ہے جو اس جنگ کی سب سے بڑی قیمت چکا رہے ہیں۔ اس تمام تر صورتحال نے غزہ کے عوام کی زندگی کے ڈھانچے کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا ہے اور اس تباہی کے اثرات سے باہر نکلنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔