World
لیبیا پارلیمنٹ کا بڑا فیصلہ، اسپیکر عقیلہ صالح برطرف
لیبیا کی پارلیمنٹ نے طویل عرصے سے اس منصب پر فائز اسپیکر عقیلہ صالح کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ ان کی جگہ پر صالحین عبدالنبی العبیدی کو نیا اسپیکر منتخب کر لیا گیا ہے۔
لیبیا کے سیاسی منظرنامے میں ایک بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے جہاں ملک کی مشرقی مقیم پارلیمنٹ نے طویل عرصے سے اس اہم منصب پر براجمان اسپیکر عقیلہ صالح کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ عقیلہ صالح تقریباً بارہ سال تک اس منصب پر فائز رہے اور لیبیا کی سیاست میں ایک انتہائی با اثر شخصیت مانے جاتے تھے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ پارلیمنٹ کے اندر بڑھتے ہوئے سیاسی عدم اطمینان اور پالیسیوں پر اختلاف کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔
اسپیکر عقیلہ صالح کی برطرفی کے بعد فوری طور پر نئے اسپیکر کے انتخاب کا عمل مکمل کیا گیا، جس میں صالحین عبدالنبی العبیدی کو اس منصب کے لیے چن لیا گیا۔ صالحین عبدالنبی العبیدی کے انتخاب کو پارلیمنٹ کے ارکان کی جانب سے ایک نئی شروعات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ ملک میں طویل عرصے سے سیاسی تعطل اور تقسیم کی کیفیت چلی آ رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لیبیا کی پارلیمنٹ کا یہ قدم ملک کی اندرونی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب لیبیا پہلے ہی مختلف سیاسی اور عسکری دھڑوں کے درمیان تقسیم کا شکار ہے، پارلیمنٹ کی قیادت میں یہ تبدیلی مستقبل کے فیصلوں اور انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے رہی ہے۔
نئے اسپیکر صالحین عبدالنبی العبیدی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ایوان کے اندر اتفاق رائے پیدا کرنا اور ملک میں سیاسی استحکام کی راہ ہموار کرنا ہوگا۔ عوام اور بین الاقوامی برادری کی نظریں اب لیبیا کی اس نئی قیادت کے اقدامات پر مرکوز ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا یہ تبدیلی ملک کو بحران سے نکالنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے یا نہیں۔