World
غزہ میں اسرائیلی حملوں کے تین سال مکمل، تباہی کے اعداد و شمار
غزہ پر اسرائیلی حملوں کو تین سال مکمل ہو چکے ہیں جن کے نتیجے میں خطہ کھنڈر بن گیا ہے اور بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔ ان تین سالوں میں دگنا سے زائد جانی نقصان ہوا ہے اور لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی جارحیت اور حملوں کو تین سال مکمل ہو چکے ہیں، جن کے نتیجے میں پورا خطہ ایک ناقابلِ تلافی انسانی المیے اور شدید ترین تباہی سے دوچار ہے۔ ان تین سالوں کے دوران ہونے والی مسلسل بمباری اور زمینی کارروائیوں نے غزہ کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے، جہاں اب زندگی کی بنیادی علامات بھی معدوم ہوتی جا रही ہیں۔ بین الاقوامی رپورٹس اور زمینی حقائق کے مطابق، ان تین سالوں میں دگنا سے زائد معصوم شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ صحت کا نظام، جو پہلے ہی محاصرے کی وجہ سے کمزور تھا، اب مکمل طور پر منہدم ہو چکا ہے اور اسپتال بمباری اور ادویات کی کمی کے باعث کام کرنے سے قاصر ہیں۔ اس طویل فوجی مہم کے دوران لاکھوں رہائشی مکانات، تعلیمی ادارے، مساجد اور تجارتی مراکز ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ بنیادی خدمات کی فراہمی معطل ہو جانے کی وجہ سے غزہ کے محصور عوام کو صاف پانی، بجلی، خوراک اور ادویات جیسی انتہائی ضروری اشیاء کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس طویل انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، تاہم اب تک تنازع کے مستقل حل اور محاصرے کے خاتمے کے لیے کوئی مؤثر عملی اقدامات سامنے نہیں آ سکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو اور بحالی میں دہائیاں لگ جائیں گی، کیونکہ اس تباہی نے نہ صرف معیشت کو پٹڑی سے اتار دیا ہے بلکہ پوری ایک نسل کے مستقبل کو بھی تاریک کر دیا ہے۔