World
جنوبی کوریا میں شدید گرمی کا ریکارڈ، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات
عالمی سطح پر جاری شدید موسمی تغیرات کے درمیان جنوبی کوریا میں درجہ حرارت نے اب تک کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے ہونے والا موسمیاتی بحران گرمی کی لہروں کو مزید شدید اور بار بار آنے کا سبب بن رہا ہے۔
جنوبی کوریا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے باعث شدید گرمی کی لہر نے تمام پرانے ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور ملک میں تاریخ کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دنیا بھر میں بدلتے ہوئے موسمی حالات اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے ماہرینِ ماحولیات کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ جنوبی کوریا کے مختلف شہروں میں پارہ انتہائی بلند سطح پر پہنچ گیا ہے جس کی وجہ سے نظامِ زندگی بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔
ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ خطرناک صورتحال اچانک پیدا نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے طویل عرصے سے جاری ماحولیاتی تبدیلیاں کارفرما ہیں۔ ان کا واضح مؤقف ہے کہ انسانی سرگرمیاں، جن میں فیکٹریوں اور گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں اور گرین ہاؤس گیسوں کا بے دریغ اخراج شامل ہے، اس گلوبل وارمنگ کی بنیادی وجوہات ہیں۔ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں دنیا بھر میں گرمی کی لہریں نہ صرف زیادہ کثرت سے آ رہی ہیں بلکہ ان کی شدت میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔
حالیہ گرم ترین دن کے ریکارڈ کے بعد جنوبی کوریا کے متعلقہ اداروں نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکومت اور صحت عامہ کے حکام کی جانب سے عوام کو سورج کی براہ راست شعاعوں سے بچنے، زیادہ سے زیادہ پانی پینے اور دوپہر کے اوقات میں غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
بین الاقوامی ماحولیاتی تنظیموں نے ایک بار پھر عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔ اگر کاربن کے اخراج کو کم کرنے اور ماحول دوست توانائی کے ذرائع کو اپنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فیصلے نہ کیے گئے، تو آنے والے برسوں میں دنیا کو اس سے بھی زیادہ شدید موسمیاتی آفات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔