World
اسرائیل میں سات اکتوبر کے حملے کی برسی منائی گئی
اسرائیلی شہریوں نے سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے حماس کے حملے کی پہلی برسی کے موقع پر یادگار مقامات پر جمع ہو کر ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر ملک بھر میں سوگ کا ماحول رہا اور لواحقین نے اپنے پیاروں کی یاد میں شمعیں روشن کیں۔
اسرائیل بھر میں شہریوں نے سات اکتوبر دو ہزار تئیس کو ہونے والے حماس کی قیادت کے حملے کی یاد میں منعقدہ تقریبات میں شرکت کی اور اس دن کے آغاز پر خصوصی خاموشی اختیار کی۔ مختلف شہروں میں لوگ یادگار مقامات اور حملے کے مقامات پر جمع ہوئے جہاں انہوں نے اپنے پیاروں کو یاد کیا جو اس خونریز واقعے اور اس کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں لقمہ اجل بنے تھے۔ اس سالانہ یادگار دن کے موقع پر سکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ متاثرہ خاندانوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کے لیے دعائیں کیں۔ اس ایک سال کے دوران خطے کی صورتحال یکسر بدل چکی ہے اور اس تنازع نے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رکھی ہے۔ یادگاری تقریبات کے دوران لوگوں کی بڑی تعداد نے شمعیں روشن کیں اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اس سانحے کے متاثرین کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ حکومتی اور عسکری عہدیداروں نے بھی اس موقع پر اپنے پیغامات جاری کیے جن میں سکیورٹی چیلنجز اور مستقبل کی حکمت عملی پر بات کی گئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دن اسرائیلی معاشرے کے لیے انتہائی جذباتی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس نے ملک کے سماجی اور سیاسی تانے بانے کو گہرا متاثر کیا ہے۔ عالمی برداری کی نظریں بھی اس وقت خطے میں جاری کشیدگی اور اس کے سکیورٹی اثرات پر مرکوز ہیں جبکہ جنگ کے اثرات اب بھی عام شہریوں کی زندگیوں پر واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔