Business
امریکی اسٹاک مارکیٹ میں مصنوعی ذہانت کی وجہ سے تاریخی تیزی
مصنوعی ذہانت میں مسلسل سرمایہ کاری کے رحجان کی وجہ سے امریکی اسٹاک مارکیٹ نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ تیل کی بلند قیمتوں اور حکومتی قرضوں کی فروخت کے باوجود بینچ مارک ایس اینڈ پی 500 میں اس سال چودہ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
امریکی اسٹاک مارکیٹ نے ایک بار پھر نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے تمام پرانے ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور مارکیٹ نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس نئی تیزی کی بنیادی وجہ مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کے شعبے میں سرمایہ کاروں کا مسلسل اور مضبوط اعتماد ہے۔ دنیا بھر کے سرمایہ کار اس شعبے کو مستقبل کا سب سے بڑا معاشی محرک سمجھ رہے ہیں، جس کی وجہ سے ٹیکنالوجی اور اس سے جڑی دوسری کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، سرمایہ کاروں کا یہ جوش و خروش معاشی دباؤ کے باوجود کم نہیں ہوا۔
عالمی سطح پر تیل کی بلند قیمتیں اور امریکی حکومتی قرضوں کی فروخت جیسے چیلنجز بھی اس وقت مارکیٹ کے سامنے موجود ہیں، جو عام طور پر معیشت کے لیے منفی سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، بینچ مارک ایس اینڈ پی 500 (S&P 500) ان تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے رواں سال کے دوران اب تک چودہ فیصد اوپر جا چکا ہے۔ یہ کارکردگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر خصوصاً ٹیکنالوجی کمپنیاں مشکل معاشی حالات میں بھی منافع کمانے اور سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان آنے والے مہینوں میں بھی جاری رہ سکتا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر ہونے والے بھاری سرمائے کے اخراجات اب عملی طور پر نتائج دینا شروع ہو رہے ہیں۔ کمپنیاں اپنے پیداواری عمل کو بہتر بنانے اور اخراجات کم کرنے کے لیے اے آئی کا بھرپور استعمال کر رہی ہیں، جس سے ان کے مالیاتی گوشوارے بہتر ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وال اسٹریٹ پر سرمایہ کار روایتی صنعتوں کے مقابلے میں ٹیکنالوجی اور اے آئی سے وابستہ اداروں پر زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
تاہم، کچھ مالیاتی ماہرین نے اس تیزی پر احتیاط برتنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کا اس طرح مسلسل اونچی سطح پر رہنا بعض اوقات حد سے زیادہ تیزی یا ببل (Bubble) کی علامت بھی بن سکتا ہے۔ اگر عالمی سیاست یا شرح سود کے حوالے سے کوئی غیر متوقع منفی خبر سامنے آئی، تو مارکیٹ میں ایک محدود یا بڑی اصلاح (Correction) دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ اس کے باوجود، فی الحال سرمایہ کاروں کا مورال بلند ہے اور وہ مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔