World
یمنی حوثی باغیوں کے ریاض اور عدن پر میزائل حملے
یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور یمنی شہر عدن پر میزائلوں اور ڈرونز سے شدید حملے کیے ہیں۔ ان تازہ جھڑپوں اور حملوں کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے اور عالمی اداروں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یمن کے حوثی باغیوں نے ایک بار پھر سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور یمنی بندرگاہی شہر عدن پر طاقتور میزائلوں اور ڈرونز کی مدد سے حملے کیے ہیں۔ ذرائع ابلاغ اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ان تازہ کارروائیوں نے خطے میں جاری کشیدگی کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ یمن کے مختلف حصوں میں زمینی اور فضائی لڑائی میں بھی شدید تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کے بعد سکیورٹی کے امور پر گہرے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حوثی گروپ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور فوجی تنصیبات کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب، علاقائی عسکری ذرائع اور اتحادی افواج نے کئی حملوں کو ناکام بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے، تاہم اہم تنصیبات پر ہونے والے نقصانات کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکی ہیں۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور سفارتی کوششوں کو شدید دھکا لگا ہے۔ یمن کی جاری جنگ کے تناظر میں اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک ایجنسی کی طرف سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق حالیہ شدید لڑائی کے نتیجے میں کم از کم دو لاکھ یمنی شہری اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور اندرون ملک نقل مکانی کرنے والے افراد کو شدید انسانی بحران کا سامنا ہے۔ خوراک، ادویات اور بنیادی سہولیات کی قلت نے صورتحال کو مزید ابتر کر دیا ہے۔ عالمی برادری اور ثالثی کرنے والے ممالک ایک بار پھر فریقین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کریں اور بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع اور تباہی کو روکا جا سکے۔