World
یورپی یونین کا اسپین میں تارکین وطن کی آمد پر ہنگامی اجلاس
اسپین کے علاقے سیوتا میں ساٹھ ہزار سے زائد تارکین وطن کے داخل ہونے کے بعد یورپی یونین نے ایک ہنگامی اجلاس بلایا ہے۔ بائیس رکن ممالک نے مشترکہ خط میں بیرونی سرحدوں کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔
برسلز: یورپی یونین نے اسپین میں تارکین وطن کی غیر معمولی لہر اور بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر ایک اہم ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ حالیہ دنوں میں اسپین کے شمالی افریقی انکلیو سیوتا میں تقریباً ساٹھ ہزار تارکین وطن کے داخل ہونے کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے، جس پر یورپی ممالک نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے یونین کے مختلف ممالک سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں تاکہ مشترکہ حکمت عملی وضع کی جا سکے۔
اس ضمن میں یورپی یونین کے بائیس رکن ممالک نے ایک مشترکہ خط بھی جاری کیا ہے جس میں یونین کی بیرونی سرحدوں کو مزید مضبوط اور محفوظ بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ دستخط کرنے والے ممالک کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک کو سرحدوں کی سیکیورٹی کے لیے سخت ترین اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ غیر قانونی تارکین وطن کے بے قابو سیلاب کو روکا جا سکے اور سرحدی نظم و ضبط کو بہتر بنایا جا سکے، کیونکہ موجودہ انتظامات اس بڑے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ہنگامی اجلاس میں نہ صرف سرحدی سیکیورٹی بلکہ تارکین وطن کی واپسی کے عمل کو تیز کرنے اور متعلقہ افریقی ممالک کے ساتھ سفارتی تعاون بڑھانے پر بھی غور کیا جائے گا۔ اسپین کو اس بحران کے دوران اکیلا چھوڑنے کے بجائے یورپی یونین کے دیگر ممالک کی جانب سے مالی اور انتظامی مدد فراہم کرنے کے امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے تاکہ ہنگامی بنیادوں پر اس مسئلے کا دیرپا حل نکالا جا سکے۔