LIVE
Loading Breaking News...

ایمان مزاری اور ہادی علی کے خلاف اسلام آباد اے ٹی سی میں فرد جرم عائد

News Image
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے تمام قانونی تقاضے پورے نہ ہونے کے اعتراضات کے باوجود ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر سیکیورٹی بریچ اور بیریئر ہٹانے کے کیس میں فرد جرم عائد کر دی ہے۔ اس کارروائی پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
اسلام آباد کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے معروف وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف سیکیورٹی بریچ اور بیریئر ہٹانے کے کیس میں باضابطہ طور پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔ عدالت کی جانب سے یہ کارروائی اس وقت عمل میں لائی گئی جب دفاعی وکلاء کی جانب سے نامکمل قانونی لوازمات اور فارملٹیز کے حوالے سے شدید اعتراضات اٹھائے گئے تھے، جنہیں عدالت نے مسترد کر دیا۔ اس مقدمے کی سماعت کے دوران دفاعی ٹیم کا اصرار تھا کہ چالان اور دیگر قانونی دستاویزات ابھی مکمل نہیں ہیں اور قانون کے مطابق ملزموں کو تمام نقول فراہم کیے بغیر فرد جرم عائد کرنا ناانصافی کے زمرے میں آتا ہے۔ تاہم، عدالت نے تمام اعتراضات کو پس پشت ڈالتے ہوئے دونوں ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ صادر کیا۔ اس سے قبل عدالت کی جانب سے اڈیالہ جیل کے حکام کو ملزمان کی پیشی کے حوالے سے احکامات بھی جاری کیے گئے تھے اور تعمیل نہ ہونے پر توہین عدالت کی کارروائی کی وارننگ بھی دی گئی تھی۔ دوسری جانب، پاکستان اور بیرون ملک انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پورے عدالتی عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ورلڈ آرگنائزیشن اگینسٹ ٹارچر (OMCT) سمیت مختلف عالمی اداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ وکلاء کے خلاف اس طرح کے مقدمات کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے اور انہیں عدالتی ہراسانی سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ انسانی حقوق کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی اور قانون کی بالادستی کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ آئندہ سماعتوں میں اس مقدمے کی مزید کارروائی آگے بڑھائی جائے گی جبکہ دفاعی وکلاء کی جانب سے اس فرد جرم کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور اعلیٰ عدالتوں میں اپیل دائر کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کیس نے ملکی سطح پر ایک بار پھر قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے حلقوں میں گرما گرم بحث کو جنم دے دیا ہے، جہاں ایک طرف ریاست کی سیکیورٹی کی رٹ ہے تو دوسری طرف بنیادی حقوق اور وکلاء کے تحفظ کا سوال اٹھایا جا رہا ہے۔