LIVE
Loading Breaking News...

সোমালিয়া سے بازیاب تین پاکستانی شہریوں کی آج وطن واپسی

News Image
সোমালিয়া کے قریب سمندری قزاقوں کے قبضے سے بازیاب کرائے جانے والے بحری جہاز کے آخری تین پاکستانی عملے کے ارکان آج کراچی پہنچ رہے ہیں۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے پرعزم ہے۔
সোমালিয়া کے ساحل کے قریب سمندری قزاقوں کے ہتھے چڑھنے والے بحری جہاز کے باقی ماندہ تین پاکستانی شہری آج وطن واپس پہنچ رہے ہیں۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ ایم ٹی آنر 25 (MT Honour 25) کے آخری تین پاکستانی عملے کے ارکان اپنی سفر کا مرحلہ مکمل کرتے ہوئے کراچی ایئرپورٹ پر اتریں گے۔ وزارتِ خارجہ اور پاکستانی سفارت خانے کے حکام ان کی واپسی کے لیے مسلسل رابطے میں تھے اور تمام قانونی و انتظامی امور کو خوش اسلوبی سے طے کیا گیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل صومالیہ کے قریب پیش آنے والے اس سنسنی خیز اغوا اور بحری جہاز کے واقعے نے ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی تھی۔ جہاز پر سوار پاکستانی عملے کی حفاظت اور ان کی بازیابی کے لیے حکومتِ پاکستان نے سفارتی سطح پر ہنگامی بنیادوں پر کوششیں شروع کی تھیں، جن کے نتیجے میں تمام عملے کو باحفاظت چھڑوا لیا گیا تھا۔ اس واقعے میں جان کی بازی ہارنے والے پاکستانیوں کے لواحقین کے لیے حکومت پہلے ہی امدادی پیکجز کا اعلان کر چکی ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کی جا سکے۔ وزیراعظم پاکستان نے صومالیہ کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کے اہل خانہ کے لیے ساڑھے بارہ ملین روپے (12.5 ملین روپے) کی مالی امداد کا بھی اعلان کیا ہے، جو حکومت کی طرف سے متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کی ایک کوشش ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق حکومت بیرون ملک مقیم یا سفر کرنے والے تمام پاکستانیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکنہ قدم اٹھا رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ آج کراچی پہنچنے والے تینوں پاکستانیوں کا ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال کیے جانے کا امکان ہے جہاں ان کے عزیز و اقارب کے علاوہ سرکاری حکام بھی موجود ہوں گے۔ اس واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ بین الاقوامی سمندروں میں پاکستانی عملے کے حقوق اور تحفظ کو مزید مستحکم بنایا جا سکے، اور عوام میں پائی جانے والی تشویش کا ازالہ کیا جا سکے۔