World
فرانس میں طلبا احتجاج کے بعد اسٹن گرنیڈز کے استعمال پر پابندی
فرانسیسی حکومت نے طلبا کے حالیہ شدید احتجاج کے دوران ایک کمسن لڑکے کا ہاتھ اڑ جانے کے بعد اسٹن گرنیڈز کے استعمال کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ ملک بھر میں اسکولوں کے مسائل اور عدم مساوات کے خلاف شروع ہونے والا یہ احتجاج گزشتہ کئی دہائیوں کا سب سے بڑا مظہر بن چکا ہے۔
فرانسیسی حکام نے ملک بھر میں جاری شدید طلبا احتجاج کے تناظر میں اسٹن گرنیڈز کے استعمال پر فوری پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ملک کے ایک حصے میں جاری مظاہروں کے دوران مبینہ طور پر پولیس کی جانب سے استعمال کیے جانے والے اسٹن گرنیڈ کی زد میں آ کر ایک کمسن لڑکے کا ہاتھ اڑ گیا۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور عوامی سطح پر سکیورٹی فورسز کے طریقہ کار پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اسکولوں کے حالات اور تعلیمی نظام میں عدم مساوات کے خلاف یہ احتجاج گزشتہ چند ہفتوں سے شدت اختیار کرتا جا رہا ہے جس نے حالیہ چند دہائیوں کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ فرانس کے مختلف شہروں میں طلباء، اساتذہ اور والدین بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور حکومت سے تعلیمی اداروں کی حالت زار بہتر بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مظاہروں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے استعمال اور دیگر سخت ہتھکنڈوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ تعلیمی ماہرین اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ فرانس کے سرکاری اسکولوں کی عمارتیں خستہ حال ہو چکی ہیں اور فنڈز کی کمی کی وجہ سے طلباء کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہیں۔ حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ فوری طور پر تعلیمی نظام میں اصلاحات لائے اور اسکولوں کی بہتری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے۔ دوسری جانب پولیس کی حکمت عملی پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ پُر امن مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے۔