LIVE
Loading Breaking News...

ہسپانوی سبتہ میں مراکشی تارکین وطن کی خطرناک کوششیں

News Image
ہسپانوی شمالی افریقی انکلیو سبتہ میں رواں ہفتے کے آخر میں ہزاروں مراکشی باشندوں نے داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس خطرناک اور جان لیوا کھیل کے دوران تارکین وطن کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ہسپانیہ کے شمالی افریقی انکلیو سبتہ میں اس ہفتے کے آخر میں ایک انتہائی خطرناک اور تشویشناک صورتحال دیکھنے میں آئی، جہاں ہزاروں مراکشی نوجوانوں اور تارکین وطن نے ہسپانوی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع ابلاغ پر سرحد پار کرنے کے لیے مبینہ طور پر ایک خطرناک کھیل یا مہم کی افواہیں پھیلائی گئیں، جس کے بعد بڑی تعداد میں لوگ ساحل سمندر کی طرف دوڑ پڑے۔ حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق، ان ہزاروں افراد میں بڑی تعداد کم عمر نوجوانوں اور بچوں کی بھی شامل تھی جو بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنے سے بھی دریغ نہیں کر رہے۔ سکیورٹی فورسز اور بارڈر گارڈز نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر انتہائی سخت اقدامات اٹھائے اور ساحلی علاقوں میں سکیورٹی کو انتہائی سخت کر دیا گیا۔ اس دوران کئی مقامات پر سکیورٹی اہلکاروں اور تارکین وطن کے درمیان کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی۔ ماہرین کے مطابق سبتہ اور ملیلہ جیسے ہسپانوی انکلیوز طویل عرصے سے افریقہ سے یورپ جانے کے خواہشمند تارکین وطن کے لیے ایک اہم ہدف رہے ہیں۔ یورپی یونین کی سرحدوں میں داخل ہونے کی یہ کوششیں اکثر المیوں پر ختم ہوتی ہیں کیونکہ سمندری راستہ طے کرنا یا سرحدی باڑ پھلانگنا انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔ مقامی انتظامیہ اور امدادی تنظیمیں اس وقت اس انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہیں تاکہ کسی بھی بڑے جانی نقصان کو روکا جا سکے۔ اس تازہ واقعے نے ایک بار پھر ہسپانیہ اور مراکش کے درمیان سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی ہجرت کے پیچیدہ مسائل کو اجاگر کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تارکین وطن کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور پائیدار اقدامات کریں، جبکہ دوسری طرف حکومتوں کی جانب سے سرحدوں کی حفاظت کے لیے مزید سخت حفاظتی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔