Business
عالمی مارکیٹس میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے اسٹاک مارکیٹ کا پویلین دھڑام
آبِ ہرمز اور سعودی عرب پر حملوں کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جس سے عالمی سطح پر اسٹاک مارکیٹس کی تیزی کا تسلسل رک گیا ہے۔ مارکیٹ کے ماہرین موجودہ صورتحال اور سپلائی کے بحران پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں جاری تیزی کا سفر اس وقت رک گیا جب آبِ ہرمز میں جہازوں پر ہونے والے حالیہ حملوں اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق، ان حملوں اور امریکی طوفان کے باعث تیل کی عالمی سپلائی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں، جس کے اثرات براہ راست دنیا بھر کی بڑی اسٹاک مارکیٹس پر پڑ رہے ہیں۔ سرمایہ کاروں میں غیر یقینی کی صورتحال پائی جاتی ہے کیونکہ توانائی کے بحران کا خدشہ ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے۔
دوسری جانب، سعودی عرب کے خلاف حوثی فضائی حملوں اور آبِ ہرمز میں بڑھتی ہوئی نقل و حمل کی پابندیوں نے ان خدشات کو مزید ہوا دی ہے کہ سپلائی کا نظام درہم برہم ہو سکتا ہے۔ منڈی کے مبصرین کا کہنا ہے کہ تیل کی برآمدات میں پائیداری کے حوالے سے سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں اور اس بات کا شدید خطرہ ہے کہ اگر حالات مزید خراب ہوئے تو خام تیل کی قیمتیں سو ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد کو چھو سکتی ہیں۔ اس پیشرفت کے بعد دنیا بھر کے تجارتی اور کاروباری حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
اس صورتحال کے نتیجے میں عالمی اسٹاک انڈیکسز میں جو پچھلے کچھ دنوں سے مثبت رجحان دیکھا جا رہا تھا، وہ اب دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔ بہت سے سرمایہ کاروں نے اپنے اثاثے محفوظ بنانے کے لیے محتاط حکمت عملی اپنانا شروع کر دی ہے۔ معاشی ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر علاقائی کشیدگی کو سفارتی ذرائع سے جلد حل نہ کیا گیا تو مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے جو عالمی معیشت کی بحالی کے عمل کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔